الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۵
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۵
ہیں مگر زبان سے بول کر وہ اپنی غلطی کا اعتراف ضروری نہیں سمجھتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ یہ سمجھنا کہ ہم نے دل سے تو مان لیا ہے زبان سے بولنے کی کیا ضرورت۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اعتراف نہیں ہے بلکہ منافقت ہے۔ جب آدمی قلبی اعتراف کے باوجود زبان سے کھلے طور پر اس کا اظہار نہ کرے تو یہ بے اعترافی ہی کی ایک صورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ بے اعترافی کا سبب یہ ہوتا ہے کہ آدمی دوسروں کے سامنے یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا کہ وہ اس معاملے میں بے خبر تھا۔
ٹھیک یہی نفسیات اُس انسان کی ہوتی ہے جو دل میں محسوس کرنے کے باوجود زبان سے بول کر اس کا اظہار نہ کرے۔ یہ نہ بولنا بھی اسی لیے ہوتا ہے کہ آدمی اپنی پوزیشن کو بچانا چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ اس بات کو جان لیں کہ وہ اب تک بے خبری کا شکار تھا، یا اس سے کوئی غلطی ہوگئی ہے، یا اس نے ایسی کوئی غلطی کر دی جس کی اُسے تصحیح کرنا چاہیے۔
آدمی جب معاملے کی وضاحت کے باوجود اعتراف نہیں کرتا تو اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ ایسا کر کے وہ اپنی پوزیشن کو گھٹا لے گا، دوسرے کے مقابلے میں اس کی برتری باقی نہ رہے گی ۔ یہ نفسیات مکمل طور پر شیطانی نفسیات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب شیطان کو حکم دیا کہ وہ آدم کے آگے جھکے تو یہ اعتراف ہی کا ایک معاملہ تھا۔ مگر شیطان نے اس اعتراف سے انکار کیا۔ اُس نے کہا کہ میں آدم سے برتر ہوں (أنا خير منه)۔
جب بھی کوئی آدمی بے اعترافی کا مظاہرہ کرے تو اس کا سبب یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی بڑائی کے احساس میں جی رہا ہوتا ہے۔ اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے وہ اعتراف نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ اگر اس کا دل محسوس کرلے کہ اس معاملے میں غلطی پر ہوں تب بھی وہ زبان سے اس کا اظہار نہیں کرنا چاہتا تاکہ ظاہری طور پر اس کی پوزیشن برقرار رہے۔ اس کی پوزیشن پر کوئی حرف نہ آئے۔ یہ بلاشبہت بڑی بھول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی سچائی کے لیے اپنے آپ کو جھکا لے اُسی کو اس دنیا میں سرفرازی ملتی ہے، اور جو آدمی اپنے جھوٹے بچاؤ کے لیے کھلے اعتراف سے پرہیز کرے وہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues