الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۶
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۶
حقیقت کی نظر میں اپنے آپ کو نیچے گرا لیتا ہے۔ حتی کہ خود اپنے ضمیر کے سامنے بھی وہ چھوٹا بن جاتا ہے۔ غلطی کا اعتراف ایک اعلیٰ درجے کی نیکی ہے۔ غلطی کا اعتراف دراصل اپنی تواضع کو ثابت شدہ بنانا ہے۔ جس شخص کے اندر غلطی کے اعتراف کا مزاج نہیں وہ یقینی طور پر تواضع سے بھی خالی ہوگا۔ اور تواضع کے بغیر کسی کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔
لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ یا تو غلطی کا اعتراف نہیں کریں گے۔ یا اپنے دل کے اندر غلطی کو محسوس کر کے یہ سمجھیں گے کہ انھوں نے غلطی کا اعتراف کر لیا۔ حالاں کہ غلطی کا ماننا وہی معتبر ہے جب کہ آدمی زبان سے بول کر اس کا کھلا اقرار کرے۔ دل میں غلطی کو محسوس کرنا اور زبان سے اس کا کھلا اعتراف نہ کرنا منافقت کی علامت ہے۔ ضمیر ہر انسان کے اندر ہے، اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ منافق انسان بھی اپنے دل میں محسوس کرتا ہے کہ اس معاملے میں مجھ سے غلطی ہوئی۔ لیکن وہ زبان سے الفاظ کی صورت میں اس کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کے برعکس، مؤمن کا طریقہ یہ ہے کہ جب اس کی غلطی اس پر واضح ہو جاتی ہے تو وہ فوراً کہہ اٹھتا ہے کہ میں نے غلطی کی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق غلطی کے احساس کے بعد فورا بول پڑتے تھے۔
مثلاً ایک بار انھوں نے کہا کہ: أصابت امرأة وأخطأ عمر، اور كُلُّ الناس أفقه منک یا عمر (ایک عورت نے صحیح کہا، اور عمر نے غلطی کی۔ اے عمر، ہر آدمی تجھ سے زیادہ جانتا ہے) حقیقت یہ ہے کہ دل میں غلطی کو محسوس کرنا اور زبان سے بول کر اس کا اظہار نہ کرنا منافقانہ روش ہے۔ اور دل میں غلطی کا احساس پیدا ہوتے ہی زبان سے بول کر لفظوں میں اس کا کھلا اعتراف کرنا مؤمنانہ روش۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues