Al-Risala · July 2006 · page 11

سازش کا تصور

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱

تاریخ میں موجود رہتے ہیں۔ خود مسلم تاریخ میں بھی اس قسم کے انفرادی واقعات پائے جاتے رہے ہیں۔ مگر تجزیہ نگار کو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کسی معاملے میں فیصلہ کن سبب (decisive factor) کیا ہے۔ کسی جزئی واقعے کو لے کر اس کو جنرلائز کرنا اور اسی کو زیرِ بحث واقعے کا اصل سبب قرار دینا سخت غیر علمی بات ہے۔ اس قسم کے جزئی واقعات کو لے کر اگر رائے قائم کی جائے تو مسلمانوں کی فتوحات بھی ’’سازش‘‘ کا نتیجہ دکھائی دے گی۔

تبصرہ نگار کو چاہیے کہ وہ جزئی واقعات کو نظر انداز کر کے اُن کلی اسباب کو دریافت کرے جو زیرِ بحث واقعے میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ ورنہ پوری رائے غلط ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر انگریز جب ہندوستان میں آئے تو یہاں مسلم سلطنت قائم تھی۔ انگریزوں نے کامیابی کے ساتھ مسلم سلطنت کو ختم کیا اور انڈیا میں اپنا سیاسی اقتدار قائم کر لیا۔ اس واقعے کو عام طور پر سازش کا نتیجہ کہا جاتا ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ رُوهیلوں کا انگریز سے مغلوب ہونا، دراصل اودھ کے مسلم نواب کی غداری کی بنا پر ہوا۔ ایک مسلم شاعر نے کہا ہے:

نَوَّابِ اودھ نے جو یہ پاپڑ نہ ہوں بیلے انگریز سے مغلوب نہ ہوسکتے روہیلے اس قسم کی باتیں تاریخ کے ناقص مطالعے کا نتیجہ ہیں۔ انگریز کا ہندوستان میں غلبہ اس لیے ہوا کہ وہ جدید طاقتوں سے مسلح ہو کر یہاں آئے تھے، ایسی طاقتیں جن کا توڑ اس وقت کے مسلمانوں کے پاس موجود نہ تھا۔ انگریز مسلم تصادم کے دوران بعض جزئی واقعات پیش آئے جیسا کہ ہر تصادم کے وقت پیش آتے ہیں۔ مگر ان واقعات کی حیثیت محض ضمنی ہے۔ ہندوستان میں انگریزوں کی کامیابی کا راز اس قسم کا کوئی جزئی سبب نہ تھا۔ وہ مکمل طور پر ایک کلی سبب کے تحت پیش آیا، اور وہ دونوں کے درمیان طاقت کا عدم توازن تھا۔ اگر یہ جزئی واقعات نہ پیش آتے تب بھی انگریز یقیناً کامیاب ہوتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page