Al-Risala · July 2006 · page 10

سازش کا تصور

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۰

سازش کا تصور

ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اپنے دورِ زوال میں پہنچ چکے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کسی قوم پر زوال کیسے اور کب آتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ مسلمانوں کے کیس کو لیجئے۔ مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ تقریباً ایک ہزار سال تک دنیا کے بڑے خطے میں حالتِ اقتدار میں رہے۔ نو آبادیاتی دور میں مغربی قوموں کا عروج ہوا، اس وقت مسلمان تہذیب اور سیاست دونوں میں مغربی قوموں کے مقابلے میں مغلوب ہو گئے۔ اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں میں احیاء نو کی تحریک شروع ہوئی۔

اُس دور کے مفکرین (شبلی نعمانی، محمد اقبال، ابوالکلام آزاد، سید جمال الدین افغانی، امیر شکیب ارسلان وغیرہ) نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ مسلمانوں کے شان دار ماضی کو یاد دلا کر ان کے اندر یہ جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی کہ وہ اس شاندار ماضی کو دوبارہ جدید تاریخ میں واپس لائیں۔ مگر یہ الٹی تدبیر تھی ۔ اس کے نتیجے میں وہ مہلک نفسیات پیدا ہوئی جس کو ’پدرم سلطان بود‘ کہا جاتا ہے۔ اس نفسیات نے مسلمانوں کو فخرِ ماضی میں مبتلا کر دیا۔ اور فخر کی نفسیات کسی حقیقی عمل کے لیے مستقل رُکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس تدبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان دوطرفہ برائی میں مبتلا ہو گئے ۔ اپنے بارے میں فخر کی نفسیات، اور دوسرے کے بارے میں نفرت کی نفسیات۔ اُس دور کے مصلحین نے مسلمانوں کو یہ یقین دلایا کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا ہے وہ دوسری قوموں کی سازش کے نتیجے میں پیش آیا ہے۔ یعنی مسلمانوں کا زوال خود اپنی کسی کوتاہی کے نتیجے میں نہیں ہوا بلکہ دوسروں کی سازش کے نتیجے میں ہوا۔ یہ ایک سنگین غلطی تھی۔ اس غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے احیاء نو کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ سازش کا نظریہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ جب بھی دو قوموں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے تو ہمیشہ بعض ایسے واقعات پیش آتے ہیں جن کو ’سازش‘ کہا جا سکے۔ اس قسم کے واقعات ہمیشہ اور ہر قوم کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page