کنزیومر کمیونٹی
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۳
وہ کتنا زیادہ عقل والا ہے، وہ کتنا زیادہ ظرف والا ہے، وہ کتنا زبردست ہے۔ حالاں کہ اس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔
اس حدیث پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ مذہب ایک پروفیشنل چیز بن جائے گا۔ لوگ اسلام کو پروفیشن یا کیریئر کے طور پر اختیار کریں گے۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ پروفیشنل کلام یا پروفیشنل سلوک ہمیشہ ظاہری طور پر زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ مثلاً ایک پروفیشنل سیلس مَین ہمیشہ عام انسانوں سے زیادہ، خوش گفتاری کا ثبوت دیتا ہے۔ حالاں کہ اس کے دل میں کوئی حقیقی جذبہ نہیں ہوتا۔ یہ کنزیومر ایتھکس ہے۔ جب مسلم کمیونٹی ایک کنزیومر کمیونٹی بن جائے تو اس کے بعد اسی کردار والے لوگ پیدا ہوتے ہیں جس کا ذکر اوپر کی حدیث میں کیا گیا ہے۔ مطالعہ حدیث مولانا وحید الدین خاں امن عالم مولانا وحید الدین خاں عورت معمار انسانیت مولانا وحید الدین خاں دین و شریعت دین اسلام کا ایک فکری مطالعہ مطالعہ سیرت سیرت رسول
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues