Al-Risala · July 2006 · page 14

كيفيات، كميات

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۴

كيفيات، كميات

موجودہ زمانے میں بہت سی مسلم جماعتیں اور مسلم تنظیمیں وجود میں آئی ہیں۔ ان میں ایک اور دوسرے کے درمیان بہت سے فرق پائے جاتے ہیں۔ مگر ایک چیز سب میں مشترک ہے، اور وہ یہ کہ ہر ایک نے کسی نہ کسی پہلو سے اسلام کی كمياتی تعبير كر ركھی ہے۔ كيفيات پر مبنی تعبير کے بجائے كميات پر مبنی تعبير میرے نزديك سرتاسر گمراہی ہے۔ اس نے موجودہ زمانے میں زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ كيفياتی تعبير کی صورت میں آدمی ہمیشہ اپنی دين داری کے بارے میں شك میں مبتلا رہتا ہے۔ کیوں کہ كيفيات (تقویٰ، اور خشيت) داخلی چیزیں ہیں، ان کو ناپا اور تولا نہیں جا سکتا۔ ليكن كمياتی تعبير میں دين داری ایک ایسی چیز بن جاتی ہے جس کو خارجی اعتبار سے ناپا اور تولا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی بے خوف ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے عمل کو ناپ تول میں ڈھال کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ جو عمل مجھے کرنا تھا وہ میں نے کر دیا۔ كيفیت پر مبنی سوچ خدا کا خوف پیدا کرتی ہے اور کمیت پر مبنی سوچ آدمی کے اندر فرضی يقین پیدا کر کے اس کو خدا سے بے خوف بنا دیتی ہے۔ اصحاب رسول ہمیشہ لرزاں اور ترساں رہتے تھے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک، دین داخلی كيفیت کا نام تھا، اور داخلی كيفیت کو ناپ تول کی زبان میں معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان خدا سے بے خوف ہو گئے ہیں کیوں کہ وہ اپنے كمياتی ذہن کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ کرنا تھا وہ ہم نے کر دیا۔ اب ہمارا معاملہ بالکل درست ہے۔

سیاست پر مبنی تعبیر، مسائل پر مبنی تعبیر، فضائل پر مبنی تعبیر، برکت پر مبنی تعبیر، وسيلے پر مبنی تعبير، عشق رسول پر مبنی تعبير، مظاہر شرك پر مبنی تعبير، خيرامت پر مبنی تعبير، وغيرہ۔

یہ تمام تعبیریں ظواہر دین پر مبنی تعبیریں ہیں۔ دین مسلمہ طور پر داخلی حقیقت کا نام ہے۔ اس لیے ہر وہ تعبیر دین جو ظواهر یا فارم پر مبنی ہو وہ بلا شبہہ باطل قرار پائے گی، اور ظواہر دین پر چلنا خود ساختہ دین پر چلنا ہے نہ کہ خدا کے بھیجے ہوئے دین پر چلنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page