Al-Risala · January 2006 · page 29

آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۹

کاروبار کریں۔ مگر یہ طریقہ تقریباً ہمیشہ ناکام ثابت ہوتا ہے۔ اور پھر صاحب سرمایہ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور مایوسی کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔

اس طرح کی تجارتی شرکت کو میں عملی طور پر درست نہیں سمجھتا۔ ایسی شرکت ہمیشہ نا کامی پر ختم ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ تجارت ہر شخص نہیں کر سکتا۔ اور جو شخص عرصے تک سروس کر کے اس سے ریٹائر ہو وہ تو تجارت جیسے کام کے لیے بالکل نا اہل ہو جاتا ہے۔

اب یہ ہوتا ہے کہ جب ایک سروس والا آدمی سرمایہ دیتا ہے اور تجارتی ذہن والا آدمی کام کرتا ہے تو بہت جلد غیر شعوری طور پر محنت کرنے والے آدمی کے اندر یہ ذہن بنتا ہے کہ سارا کام میں کرتا ہوں اور یہ شخص صرف ایک بار کچھ پیسے لگا کر کاروبار میں مستقل حصے دار بن گیا ہے۔ اس طرح دونوں میں دوری کا بیج پڑ جاتا ہے جو بڑھتے بڑھتے اختلاف اور علیحدگی کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ علیحدگی ہمیشہ محنت کرنے والے کی موافقت میں ہوتی ہے اور پیسہ لگانے والے کے خلاف۔ اس بنا پر میری رائے ہے کہ اگر کسی کے پاس مذکورہ قسم کا سرمایہ ہو تو وہ اپنے سرمایے کو بینک میں رکھ دے مگر وہ اس سے کاروباری شرکت کا معاملہ ہرگز نہ کرے ۔

سوال

میں نے بہت ساری کتابیں، دینی رسالے، بخاری شریف، صحیح مسلم شریف، تاریخ اسلام اور معنی سے قرآن بھی پڑھا ہے۔ لیکن میں اُن کو سمجھ نہیں پاتی تھی۔ صرف عقیدے کے اعتبار سے میں اسلام میں شامل تھی لیکن الرسالہ پڑھنے کے بعد اسلام میرے لیے re-discover ہوا، اور میں سنجیدگی سے اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔ گویا مجھے معرفت الہی کا راستہ مل گیا۔ آپ کی کتاب پڑھنے سے پہلے میں بن لادن اور صدام جیسے لوگوں کو Islamic Hero اور Terrorist کو اسلامی مجاہدین سمجھتی تھی۔ غیر مسلم سے نفرت کرتی تھی۔ حالانکہ میری 60 فیصد سہیلیاں غیر مسلم ہیں۔ جب میں Hostel میں تھی تب وہ لڑکیاں میرے ساتھ نماز ادا کرتیں، کبھی کبھار رمضان کے ایک دو روزے بھی رکھ لیتی تھیں۔ وہ لوگ قرآن مجھ سے مانگتیں تو میں ہاتھ بھی لگانے نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page