Al-Risala · July 2006 · page 22

صلاحیت کا کم تر استعمال

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۲

سوال

کیا Life Insurance ہم خرید سکتے ہیں ۔ میں نے جب ۱۹۸۷ میں اس کو خریدا تھا تب میں اسلام سے بہت واقف نہ تھا۔ اور اس زمانے میں میں جناب پرویز صاحب کی کتابیں پڑھا کرتا تھا۔ لیکن ان کی ساری کتابیں پڑھنے کے بعد بھی دل کو اطمینان نہیں ہوا۔ ادھر ۱۹۹۹ میں میں نے ایک بک اسٹور میں آپ کی ایک کتاب دیکھی جس کا نام تھا سفرنامہ۔ غیر ملکی اسفار (۱)۔ ویسے بھی انگریزی میں Travel Books پڑھا کرتا ہوں ۔ جب میں نے آپ کی کتاب دیکھی تو دل میں ہوا کہ چلو دیکھیں (گستاخی معاف) مُلّا دنیا کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ جب میں نے آپ کی کتاب پڑھی تو مجھے آپ کی باتیں بڑی اچھی لگیں اور آپ کے خیالات پڑھتے پڑھتے دل نے کہا کہ مجھے جس انسان کی تلاش تھی وہ یہی انسان ہے۔ تب سے آج تک آپ کی بہت ساری کتابیں پڑھیں، دل کو سکون ہوا۔ پھر سے کلمہ پڑھا اور خدا کو پالیا۔ (احمد اچھا، لندن)

جواب

لائف انشورنس کے بارے میں علماء کے فتوے آ چکے ہیں، وہ سب کو معلوم ہیں۔ میں اس قسم کے فتووں سے ایک بنیادی اختلاف رکھتا ہوں، وہ یہ کہ یہ فتوے عباسی دور میں پیدا ہونے والے مدارس فقہ کو شعوری یا غیر شعوری طور پر ماڈل مانتے ہیں ۔ اور اسی کو اسلام کا آخری نمونہ سمجھ کر فتوے دیئے جاتے ہیں۔ مگر اصولی اعتبار سے یہ بات درست نہیں۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ کو مکی دور اور مدنی دور میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مکی دور کی حیثیت اسلام کے ابتدائی دور کی ہے، اور مدنی دور کی حیثیت اسلام کے تکمیلی دور کی۔ مگر یہ تصور مکمل طور پر غلط ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مکی دور اور مدنی دور دونوں یکساں طور پر، اسلامی نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مکی دَور اُس حالت کا ایک معیاری نمونہ ہے جب کہ اہلِ اسلام سیاسی اقتدار کی حالت میں نہ ہوں اور مدنی دور اُس حالت کا ایک معیاری نمونہ ہے جب کہ اہلِ اسلام سیاسی اقتدار کے مالک ہوں ۔ یہ دونوں نمونے ہمیشہ کے لیے معیاری نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلمان جب سیاسی اقتدار کے مالک

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page