صلاحیت کا کم تر استعمال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۱
ہے ۔ پیاز انسان کو ایک مادی واقعے کے روپ میں بتا رہی ہے کہ اس کو اپنے اندر روحانيت کي تعمير کے لیے کيا کرنا چاہيے۔
خدا نے اس دنيا ميں حصول کمال کے لیے اکتشافي طريقہ (discovery method) رکھا ہے، مادی چيزوں کے لیے بھی اور انسان کے لیے بھی۔ مادی دنيا ميں خدا نے بنايا يا اسٹیل (steel) نہيں رکھا بلکہ خام لوہا (ore) رکھا۔ انسان اس خام لوہے کو زمين سے نکال کر اپنی فیکٹری ميں لاتا ہے اور وہاں مخصوص عمل (process) سے گذار کر اس کو اسٹیل کی صورت ديتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ فطرت کسی کو بھی اسٹیل سپلائی نہيں کرتی۔ وہ صرف خام لوہا ديتي ہے۔ اب اسٹیل کے طالب کا اپنا کام ہے کہ وہ خام لوہے پر عمل کر کے اس کو استيل بنائے۔
يہی معاملہ انسان کا ہے۔ یہاں بھی ایسا نہيں ہوتا کہ انسان کو روحانی پیکر کی صورت میں پیدا کر ديا جائے۔ اس کے بجائے یہ ہوتا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ہر قسم کی روحانی صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اب یہ خود انسان کا کام ہے کہ وہ اپنے اندر روحانی تشکیل کا عمل کرے۔ وہ اپنی تربیت کر کے اپنے آپ کو ایک کامل روحانی شخصیت میں ڈھال لے۔
روحانی انسان ایک خود تعمیر کردہ انسان کا نام ہے۔ روحانی انسان کسی پر اسرار کرامت کے ذريعے نہيں بنتا، وہ ایک معلوم تربيتي عمل کے ذریعے بنتا ہے۔ یہ عمل تمام تر ذہنی سطح پر ہوتا ہے۔ کوئی بھی پر اسرار طريقہ روحانی انسان بنانے والا نہيں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues