Al-Risala · July 2006 · page 24

صلاحیت کا کم تر استعمال

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴

اپنے دل سے فتویٰ پوچھو۔ ظاہر ہے کہ رسول اللہ کا یہ جواب فاجر انسان کے لیے نہ تھا بلکہ صالح انسان کے لیے تھا۔ میری رائے ہے کہ جو شخص دین داری کی زندگی گزار رہا ہو، جس کے دل میں نیک نیتی ہو، جو آخرت میں اللہ کی پکڑ سے ڈرتا ہو اس کو ہر معاملے میں مفتی سے فتویٰ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ کچھ چیزوں میں مسئلہ پوچھنا یقیناً ضروری ہے مگر بہت سے امور ایسے ہیں جن میں آدمی کو اپنے قلب یا اپنے ضمیر کی رائے پر چلنا چاہیے۔

سوال

الرساله ستمبر ۲۰۰۵ کے صفحہ نمبر ۴۳ پر کشمیر کے عبد الرشید بٹ کے سوال کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ــــ اصل بات یہ ہے کہ ایک باپ کو اپنی اولاد سے جو گہرا تعلق ہوتا ہے وہی تعلق آپ کو اپنے الرساله مشن سے بھی ہے۔ آپ کے اس جواب سے اس قدر متاثر ہوا ہوں کہ بقیہ زندگی اسی مشن میں گزارنے کا تہیہ کر چکا ہوں۔ مجھے یقین ہو چلا ہے کہ جس تنظیم یا مشن سے صاحب مشن کو اُولاد جیسا گہرا لگاؤ ہو اُس مشن کو زوال نہیں۔

راقم الحروف سنٹر گورنمنٹ کے ریلوے محکمہ سے بطور O.S ریٹائرڈ ہو چکا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ دونوں لڑکے وطن سے بہت دُور بر سر روزگار ہیں اور اب وطن میں آکر بسنا نہیں چاہتے۔ میں اپنے وطن میں تنہائی کی زندگی سے اُکتا چکا ہوں۔ چاہتا ہوں کہ اپنا ذاتی مکان کسی فلاحی تنظیم کے لیے وقف کر دوں اور اپنی فیملی پینشن کسی ایسی بیوہ یا مطلقہ کے نام منسوب کر دوں جو میرے بعد بھی اس مشن کو جاری رکھے۔

تمنا ہے تو بس شارق، تمنا آخری اپنی جو گزرے، خدمتِ خلقت میں گزرے زندگی اپنی اس بارے میں آپ کے پر خلوص مشورے کا انتظار رہے گا۔ (شارق، آکولہ)

جواب

آپ نے دعوتی مشن کے لیے جو ارادہ کیا ہے وہ ایک قربانی کی بات ہے۔ اور قربانی کے جذبے کے اعتبار سے وہ بلا شبہ قابل ثواب ہے۔ لیکن اسلام میں قربانی کا تصور حکمت کے ساتھ جڑا ہوا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page