صلاحیت کا کم تر استعمال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۵
اسلام میں نہیں۔
دعوت الی اللہ کا کام بلڈنگ کے ذریعے یا پیسے کے ذریعے نہیں ہوتا۔ دعوت الی اللہ کا کام جب بھی ہوتا ہے اسپرٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ اور اسپرٹ کوئی ایسی چیز نہیں جو منتقل کی جاسکے۔ آپ کے اندر جو دعوتی اسپرٹ پیدا ہوئی ہے وہ آپ کے اوپر اللہ کا ایک خصوصی انعام ہے۔ اس اسپرٹ کو آپ بطور خود کسی تدبیر سے کسی اور کے اندر منتقل نہیں کر سکتے۔ آپ کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی اس دعوتی اسپرٹ کو اللہ کا انعام سمجھیں اور اس کو بھر پور طور پر استعمال کریں۔ آپ کے پاس جو مکان ہے یا آپ کو جو پنشن مل رہی ہے، اس کو آپ اپنے لیے خدا کی مدد سمجھیے ۔ آپ یہ کیجئے کہ اپنے گھر میں ایک لائبریری قائم کیجئے اور جو ماہانہ رقم آپ کو ملتی ہے اس کو بقدر ضرورت اپنے اوپر خرچ کرنے کے بعد الرسالہ اور الرسالہ کی مطبوعات کو پھیلانے پر لگائیے۔ اپنے پیسے کو کسی اور کو دینے کے بجائے الرسالہ مشن کو پھیلانے میں لگائیے۔ جو لوگ الرسالہ خرید نہیں سکتے مگر وہ اس کو پڑھ سکتے ہیں، انھیں مفت الرسالہ پہنچائیے۔ اس طرح اپنی پوری زندگی اس مشن پر وقف کر دیجئے ۔ آپ کا وقت اور آپ کا پیسہ دونوں اس مشن کو فروغ دینے پر استعمال ہونا چاہیے ۔ اپنا مکان اور اپنا پیسہ دوسروں کو دینا، میرے نزدیک کوئی حکیمانہ فیصلہ نہیں۔
سوال
۸ ۸؍اکتوبر ۲۰۰۵ کو پاکستان میں زلزلہ آیا۔ اس سے بعض علاقوں میں شدید تباہی آئی۔ مثلاً اسلام آباد اور مظفر آباد (کشمیر) وغیرہ میں ۔ اس کے بعد یہاں کے مذہبی طبقے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ خدا کا ایک عذاب تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ عذاب اس لیے آیا کہ پاکستان کے لوگوں نے یہاں’’ اسلامی نظام‘‘ قائم نہیں کیا۔ کسی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسلامی اخلاقیات کو بہت پامال کیا جا رہا تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ پاکستان کے لوگ جھوٹ اور منافقت میں جی رہے تھے۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے۔ کیا واقعی یہ خدا کا عذاب تھا۔ (عبداللطیف، کراچی)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues