Al-Risala · July 2006 · page 27

صلاحیت کا کم تر استعمال

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷

میری مخالفت شروع کردی ہے۔ (شاہ عمران حسن، مونگیر)

جواب

آپ کو اللہ تعالیٰ نے سلیم الطبع بنایا ہے۔ اسی کے ساتھ آپ کو یہ ہمت بھی دی ہے کہ آپ حالات کی ناموافقت کے باوجود الرسالہ مشن کو لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح آپ کی مدد فرمائے۔ اس سلسلے میں ایک حکمت کی بات یہ ہے کہ اقدام ہمیشہ بقدر تیاری ہونا چاہیے۔ آدمی جو مقصد حاصل کرنا چاہے اس کے مطابق ، اس کے پاس ضروری تیاری ہونا چاہیے۔ پہلے تیاری اور اس کے بعد اقدام یہی کام کا فطری طریقہ ہے۔

سوال

میں ایم ۔ اے ۔ انگریزی (M. A. English from IGNOU) کی طالبہ ہوں اور جنوری ۲۰۰۲ سے میں الرسالہ پڑھتی رہی ہوں۔ پہلی بار جب الرسالہ میرے ہاتھوں میں آیا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی اور پڑھنے کے بعد حقیقت میں دل بہت خوش ہوا اور سب سے بڑی بات یہ کہ میں الرسالہ سے فوراً متاثر ہوگئی۔ اس سے میری معلومات میں اضافہ ہوا۔ ایسا لگا جیسے الرسالہ صرف دل کو ہی نہیں بلکہ روح کو بھی تسکین دیتا ہے۔ تب سے میں نہایت ہی پابندی کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ ہر ماہ کر رہی ہوں ۔ بے شک اس کے مطالعے سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ بہت کچھ حاصل کیا ہے اور میں اس کا پورا کریڈٹ آپ کے نام کروں گی ۔ بلاشبہہ آپ کی عظیم شخصیت کی بدولت ہی یہ سب کچھ ممکن ہوسکا۔

بے شک مجھے اس کے ذریعے اسلام کی حقیقت سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔ مگر کچھ باتوں سے میں متفق نہیں ہوں ۔ وہ یہ کہ ہر معاملے میں مسلمانوں کو قصوروار ٹھہرانا۔ تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے۔ پھر یہ کہنا کہاں تک درست ہے کہ یہ مسلمانوں کی غلطی کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ (رخشان ہاشمی، مونگیر) جواب "مسلمانوں کو قصور وار ٹھہرانا ، ایک غیر متعلق بات ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اصل

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page