صلاحیت کا کم تر استعمال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۶
جواب
میرے نزدیک زلزلے کے اس واقعے کو عذاب کہنا درست نہیں۔ عذاب کا لفظ سزا کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور تکلیف کے لیے بھی۔ سزا کے مفہوم میں یہ عذاب نہ تھا۔ البتہ تکلیف کے مفہوم میں اس کو عذاب کہہ سکتے ہیں۔
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب یا تکلیف کی تین خاص صورتیں ہیں۔ ایک وہ جس کی حیثیت تنبیہہ یا وارننگ کی ہوتی ہے۔ اس نوعیت کے عذاب کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فلولا إذ جاءهم بأسا تضرّعوا (الانعام: ۴۳) اس نوعیت کے معاملے کو تنبیہی عذاب کہا جاسکتا ہے۔ یہ تنبیہات انسان کو جھنجھوڑنے کے لیے آتی ہیں۔ ایسی تنبیہات ہمیشہ آتی رہی ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو فرق ہوا ہے وہ صرف یہ کہ میڈیا کی وجہ سے بہت جلد عالمی طور پر لوگوں کو اس کا علم ہو جاتا ہے، جب کہ پچھلے زمانے میں ایسا واقعہ صرف ایک مقامی واقعہ بن کر رہ جاتا تھا۔ عذاب کی دوسری صورت وہ ہے جس کو قرآن میں دَمّر ناهُم تد ميرا (الفرقان : ۳۶) کہا گیا ہے۔ اس نوعیت کا عذاب ایک مخصوص گروہ کے لیے اُس وقت آتا ہے جب کہ اس کے پاس پیغمبر آئے اور وہ اتمامِ حجت کی حد تک اپنا پیغام اس کو پہنچا دے۔ یہ عذاب سزا اور ہلاکت کے معنیٰ میں ہوتا ہے۔ پیغمبری کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد اب اس قسم کا عذاب کسی قوم پر آنے والا نہیں۔ عذاب کی تیسری صورت وہ ہے جس کے لیے قرآن میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں: إن زلزلة الساعة شیٔ عظِيم (الحج: ۱) یہ معاملہ اُس وقت پیش آئے گا جب کہ خدا موجودہ دنیا کو ختم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔ ایسا واقعہ صرف ایک بار پیش آئے گا، اور اس کا پیش آنا ابھی باقی ہے۔ سوال الرسالہ کو عام کرنے میں مجھے بہت ہی صبر آزما حالات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں بعض جماعتوں نے اپنا پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔ اور وہ الرسالہ کے خلاف کتابیں پھیلا رہے ہیں۔ شہر کے لوگ بھی دھیرے دھیرے جاننے لگے ہیں کہ میں الرسالہ پھیلاتا ہوں۔ اس لیے لوگوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues