صلاحیت کا کم تر استعمال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۳۳
جواب
آپ کے خط کا براہِ راست جواب نہ دیتے ہوئے میں ایک اصولی بات کہوں گا۔ اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک موضوع لے کر اس کے بارے میں دوسروں سے سوال کرتے ہیں۔ حالاں کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ موضوع کا مطالعہ کر کے خود اپنے سوال کا جواب دریافت کیا جائے۔ مثلاً آپ تصوف کے سماجی رول پر کتاب لکھنا چاہتے ہیں تو خود آپ کو اپنے مطالعے سے اس کا مواد حاصل کرنا ہوگا۔ دوسروں سے اس موضوع پر سوال کر کے آپ کوئی قابلِ قدر کتاب نہیں لکھ سکتے۔ اسی طرح غیر مسلم کو اسلام کی کون سی کتاب پڑھائی جائے یہ پوچھنے کی بات نہیں ہے بلکہ خود دریافت کرنے کی بات ہے۔ آپ مذکورہ غیر مسلم سے بات چیت کر کے ان کے ذہن کو جاننے کی کوشش کریں۔ پھر آپ خود مختلف کتابوں کا مطالعہ کر کے یہ جانیں کہ کون سی کتاب مذکورہ غیر مسلم کے مائنڈ کو ایڈریس کرتی ہے۔
اصولی طور پر آپ اس بات کو سمجھ لیں کہ آپ کا کام کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا۔ فطرت کا نظام ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے حصے کا کھانا نہیں کھا سکتا۔ اسی طرح کوئی شخص دوسرے کے حصے کا ذہنی عمل بھی نہیں کر سکتا۔
سوال
میرا خیال ہے کہ مدرسے کے بچوں کو دینی تعلیم، اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کی تربیت کے ساتھ ساتھ انھیں ذریعہ معاش میں کفیل بنانے کی بھی فکر کی جائے۔ بچوں کو مدرسے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انھیں ہنر بھی سکھائے جائیں۔ مدرسے میں دینی تعلیم کے ساتھ ان لڑکوں کو سلائی کی تربیت، ٹوپی بنانے کا ہنر، جائے نماز، لکڑی کے سامان تیار کرنے، لکڑی اور لوہے کے پائپ کے فرنیچر تیار کرنے کے ہنر اور کشیدہ کاری کے کام بھی سکھائے جائیں، تا کہ جب یہ لڑکے مدرسے کی تعلیم سے فراغت پا کر دنیاوی زندگی میں قدم رکھیں تو اس لائق ہوسکیں کہ دین کی زندگی کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی بھی سنوارنے میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues