Al-Risala · July 2006 · page 34

صلاحیت کا کم تر استعمال

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۳۴

عام اسکول اور کالجوں میں بھی لڑکوں کو جو تعلیم دی جاتی ہے وہ بھی Job oriented یعنی روزگار سے منسلک نہیں ہوتی ہے۔ لیکن ان کی تعلیم چونکہ دنیاوی زندگی کے تقاضوں پر مبنی ہوتی ہے۔ یعنی ان کے courses of studies میں ایسے ایسے سبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں کہ وہ ملازمت کے ممکنہ امتحانات میں بیٹھ کر ملازمت حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اس کے برعکس، مدرسے کی تعلیمات میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ ان کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ (محمد ابوالکلام، پھلواری شریف، پٹنہ) جواب اس تجویز سے مجھے اصولی طور پر اتفاق ہے۔ آج کل عام مزاج یہ ہے کہ مدرسے کی تعلیم کے ساتھ کسی ہنر کو شامل کرنے کی بات کی جائے تو لوگ اُس کو پسند نہیں کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ اس طرح کی پیوند کاری سے دینی تعلیم کو نقصان ہو گا۔ مگر یہ بات سراسر غلط ہے۔ اس کا ایک تجرباتی ثبوت یہ ہے کہ قدیم روایتی دور میں مدارس کے تعلیمی نظام کے ساتھ عام طور پر خطاطی یا جلد بندی اور طب جیسے پروفیشنل کام کا شع بھی موجود رہتا تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ اس کی بنا پر تعلیم میں نقصان واقع ہو جائے۔ بلکہ تجربہ بہ برعکس طور پر بتاتا ہے کہ پچھلے دور میں مدارس سے بڑے بڑے علماء نکلے۔ جب کہ موجودہ زمانے میں مدارس سے اِس طرح کے بڑے بڑے علماء کی پیدائش تقریباً بند ہو گئی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کم از کم دو چیزوں کی تعلیم و تربیت کو ہر مدرسے میں ضرور شامل کیا جائے۔ ایک ہے انگریزی زبان اور دوسری چیز ہے کمپیوٹر۔ مجھے یقین ہے کہ مروّجہ تعلیم میں کسی بھی قِسم کا نقصان کیے بغیر ان دونوں چیزوں کو مدرسے کے تعلیمی نظام میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

سوال

میں ایک مسلم نوجوان ہوں۔ میں نے ایک دینی مدرسے میں تعلیم حاصل کی ہے۔ مسلم معاشرے کی موجودہ حالت کو دیکھ کر میرے اندر اصلاح کا جذبہ ابھرتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے اندر اصلاح معاشرہ کا کام کروں۔ اس مقصد کے لیے میں اصلاحی مضامین لکھنا چاہتا ہوں۔ کیوں کہ موجودہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page