صلاحیت کا کم تر استعمال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۰
B.A. پاس بہو ہے۔ وہ لوگ بھی کھاتے پیتے خوش حال ہیں۔ ہم لوگ بہت ارما ن سے بہو بیاہ کر لائے لیکن بہو کسی کو منہ نہیں لگاتی ہے۔ میں اور میرے گھر میں بہو کی بہت عزت ہوئی۔ کوئی روک ٹوک نہ کوئی دباؤ۔ جب میکے جانا چاہتی میں اسے بھیج دیتی۔ میں بلاتی تو وہ اپنی مرضی سے ہی آتی۔ شادی کو 2 سال گزر گیے ہیں لیکن وہ سب سے الگ تھلگ رہتی ہے۔ میرے کسی رشتے دار کا فون آتا ہے تو بات نہیں کرتی۔ گھر کے کسی کام میں دلچسپی نہیں لیتی۔ کبھی میں کوئی چیز بنانے کو کہتی تو کہتی ہے مجھے نہیں آتا ہے بنانا۔ بہو اچھی شکل وصورت کی ہے۔ میں نے کچھ نہیں کہا میں خود ہی ہر کام کر لیتی۔ پھر بھی وہ میرے گھر خوش نہیں رہی۔ ہم لوگوں نے اور میرے بیٹے نے اسے ہر طرح کا سکھ دیا۔ ہر آدمی اس کے لیے کچھ سامان لاتا تا کہ وہ میرے گھر خوش رہے لیکن نہیں۔ وہ کسی کو اپنا نہیں سمجھتی۔ نہ صبح میں ناشتہ بنانے کی فکر نہ کھانا بنانے کی۔ میرا بیٹا اسے عرب اپنے ساتھ لے گیا وہاں بھی اس کا وہی حال ہے۔ میرے بیٹے نے لکھا ہے کہ میں نے آرام کی ہر چیز گھر میں رکھ دی ہے کہ وہ خوش رہے لیکن اس کا یہاں دل نہیں لگتا۔ میرے بیٹے نے یہ بتایا کہ یہ میکے رہنا چاہتی ہے۔ مولا نا صاحب مجھے اس مسئلے کا حل بتائیے ۔ (ایک قاری الرساله) جواب زندگی میں ہمیشہ آدمی کے لیے دو میں سے ایک کا چوائس ہوتا ہے۔ مگر آدمی اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ تیسرا چوائس لینا چاہتا ہے، جب کہ تیسرا چوائس اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ شادی کا معاملہ بھی یہی ہے۔
اکثر ماں باپ ایسا کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے ڈھونڈ کر اچھی شکل وصورت والی بہو لاتے ہیں، اور پھر شادی کے بعد یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی بہو ان کی بات نہیں سنتی۔ والدین کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اچھی شکل وصورت والی بہو کبھی ان کی بات نہیں سنے گی۔ اگر وہ بات سننے والی بہو چاہتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ معمولی صورت والی بہو اپنے گھر میں لائیں۔ اس معاملے میں کوئی اور چیز ان کے لیے قابل عمل نہیں۔
اچھی شکل وصورت والی لڑکی کے ساتھ یہ حادثہ پیش آتا ہے کہ دو چیزیں اس کے مزاج کو خراب
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues