Al-Risala · July 2006 · page 41

صلاحیت کا کم تر استعمال

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۱

کر دیتی ہیں۔ ایک ، اس کے ماں باپ ، اور دوسرے ، آئینہ۔ ایسی لڑکی کی جب شادی ہوتی ہے اور وہ اپنی سسرال میں آتی ہے تو یہ دونوں چیزیں اس کو بگاڑ چکی ہوتی ہیں۔ ایسی حالت میں لڑکے کے والدین کو چاہیے کہ وہ اگر اچھی شکل وصورت والی لڑکی کو اپنی بہو بناتے ہیں تو وہ اس سے کوئی امید نہ رکھیں ۔ اور اگر وہ بہو کو اپنی امید کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ ایسی لڑکی کو اپنے گھر لائیں جو صورت کے اعتبار سے پرکشش نہ ہو۔

اس معاملے میں سب سے برا کردار لڑکی کے ماں باپ کا ہے۔ لڑکی کے ماں باپ عام طور پر یہ کرتے ہیں کہ وہ اچھی شکل وصورت والی لڑکی کے ساتھ بہت زیادہ لاڈ پیار (over-pampering) کا معاملہ کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکی جب شادی کے بعد اپنی سسرال میں جاتی ہے تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہاں بھی اپنے لیے لاڈ پیار والے سلوک کی امیدوار رہتی ہے۔ مگر فطری طور پر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اس لیے اس قسم کی لڑکیاں ہمیشہ پریشان رہتی ہیں۔ اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے وہ بھاگ کر اپنے میکے جاتی ہیں جو کہ صرف ان کی پریشانی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ میکے والے اور سسرال والے دونوں حقیقت پسندانہ انداز اختیار کریں۔ سوال پوجیہ مولا نا صاحب کو عید کے مبارک موقعے پر میرا سلام قبول ہو۔ بہت عرصے سے آپ کے درشن کرنے کا موقع نہیں ملا۔ کئی سوال میرے ذہن میں گھوم رہے ہیں۔ کیا دھرتی پر کبھی ایسا بھی وقت آئے گا جب انسان کے بیچ میں بھائی بھائی کا رشتہ قائم ہو جائے گا۔ اگر ہاں ، تو اس کو قائم کرنے میں آپ جیسے سنتوں ، فقیروں کا کیا رول ہوگا۔ کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ آپ کو اس مقصد کے لیے کوئی بڑا initiative لینا چاہیے۔ کیوں کہ چھوٹے موٹے قدموں سے آج کے ماحول پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اگر آج ہی آپ نے اور آپ جیسے سنتوں نے positive دشا میں کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا تو شاید کل حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔

آپ سے عرض ہے کہ دنیا کے حالات کو سدھارنے کے لیے آپ historical initiative

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page