Al-Risala · July 2006 · page 43

Co-existance in Islam.

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۳

خبرنامہ اسلامی مرکز ۱۷۵۵

۱۔ نیشنل بک ٹرسٹ اور حنےمت میزورم کے تعاون سے میزورم کی راجدھانی ایزول میں ایک بک فئر لگائی گئی ۔ وہ ۵ مارچ سے ۱۱ مارچ ۲۰۰۶ تک جاری رہی ۔ اس موقع پر گڈ ورڈ بکس ( نئی دہلی ) کی طرف سے ایک بک اسٹال لگایا گیا ۔ مسٹر مصطفیٰ عمری نے اس کو سر انجام دیا ۔ انھوں نے بتایا کہ میزورم میں یہ پہلا اسلامی بک اسٹال تھا۔ لوگوں نے کافی دلچسپی لی۔ خاص طور پر قرآن ( انگریزی ) کے تمام نسخے لوگوں نے حاصل کرلیے ۔ ادارے کی دوسری اسلامی کتابیں بھی لوگوں کو کافی دلچسپی کے ساتھ خریدیں۔ میزورم کے گورنر بھی بک اسٹال پر آئے اور انھوں نے اسلام کے بارے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔

۲۔ ۶ مارچ ۲۰۰۶ کوروزنامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر سنیل نے ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اُن کا سوال بنارس میں ایک مندر پر بم دھماکے کے حوالے سے تھا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کسی عبادت گاہ پر بم دھماکے کے لیے اسلام میں کیا حکم ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کا بم دھماکہ ہر حال میں حرام ہے، خواہ وہ کسی مندر پر کیا جائے یا کہیں اور کیا جائے ۔ اس قسم کے بم دھماکوں میں بے قصور لوگ مارے جاتے ہیں ، اور بے قصور لوگوں کو مارنے کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ جس نے ایک بھی بے قصور آدمی کو قتل کیا تو اس نے گویا کہ سارے ہی انسانوں کو قتل کر ڈالا ۔ اس قسم کا متشددانہ فعل ہر حال میں قابلِ مذمت ہے ۔ کوئی بھی عذر اس کو جائز ثابت نہیں کرتا۔ اختلاف یا شکایت کے موقع پر اسلام میں پُر امن حل کی تلقین کی گئی ہے۔ پر تشدد کارروائی اسلام میں سرے سے جائز نہیں۔ ۳۔ دوردرشن (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر وریندر شرما نے ۸ مارچ ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا موضوع ۷ مارچ کو بنارس میں ہونے والا بم دھماکہ تھا جس میں ایک مندر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جوابات کے ذیل میں بتایا گیا کہ اس قسم کا بم دھماکہ اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔ اسلام کے مطابق ، ہر عبادت گاہ قابلِ احترام ہے ، خواہ وہ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ ہو۔ عبادت گاہ پر بم دھماکہ کرنا دہرا گناہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ہے عبادت گاہ پر متشددانہ حملہ کرنا اور دوسرا ہے بے قصور لوگوں کی جان لینا ۔ یہ واقعہ ہر اعتبار سے سخت قابلِ مذمت ہے۔ ۴۔ حبیب بھائی نے حیدر آباد (جبلی ہل ) میں ایک دعوتی سنٹر بنایا ہے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے حیدر آباد کا سفر کیا ۔ یہ سفر ۹ مارچ سے ۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کے درمیان ہوا۔ ان کے ساتھ سی پی ایس کے دس اور افراد اس سفر میں شامل تھے ۔ حیدر آباد میں عام ملاقاتوں کے علاوہ کئی باقاعدہ پروگرام ہوئے۔ حبیب بھائی کے سنٹر میں دعوتی کام کی اہمیت پر تفصیلی خطاب ہوا۔ پر گنا بھارتی کی طرف سے بھارتیہ ودّیا بھون کے ہال میں ایک پروگرام کیا گیا جس کا موضوع تھا: بقائے باہم اور اسلام:

Co-existance in Islam.

اس موضوع پر تفصیلی خطاب ہوا۔ جامعہ دار الفرقان للبنات (سعید آباد) میں ایک پروگرام ہوا جس کا موضوع

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page