آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۵
جگہ پائے گی، اُس کا تعلق کسی خود ساختہ جماعت یا فرقے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ایک ایسے گروہ افراد سے ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ’’الجماعۃ‘‘ قرار پائے۔
مذکورہ حدیث میں جس ’’الجماعۃ‘‘ کا ذکر ہے اس سے مراد معروف معنوں میں کوئی تنظیم نہیں ہے۔ کسی خود ساختہ جماعت کو ’’الجماعۃ‘‘ کہنا اپنے آپ کو اس خطرے میں ڈالنا ہے کہ ایسے لوگ کبھی ’’الجماعتہ‘‘ (فرقہ ناجیہ) میں شامل نہ کیے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں الجماعت سے مراد متفرق افراد کا گروہ ہے نہ کہ کوئی منظم جماعت، جو صدر اور سکریٹری کے تحت وجود میں آتی ہے۔ اس مطلوب الجماعت کی پہچان یہ ہے کہ وہ من كان على ما أنا عليه وأصحابي (ابوداؤد) کا مصداق ہو۔ یعنی وہ پوری سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ رسول اور اصحاب رسول کو اپنا اُسوہ بنائے۔ وہ ہر معاملے میں یہ دیکھے کہ دورِ اول میں جب اس قسم کی صورت حال پیدا ہوئی تو رسول اور اصحاب رسول نے اُس موقع پر کس قسم کی روش اختیار کی ۔ اور پھر رسول اور اصحاب رسول کے یہاں جو روش ملے اُس کو کسی تاویل کے بغیر اختیار کر لے۔
آپ نے اپنے خط میں جس جماعت کا ذکر کیا ہے وہ بلاشبہ اُس برائی کا شکار ہے جس کو قرآن اور حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ جب آپ کسی کو ایسی حالت میں دیکھیں جو آپ کے نزدیک بُرائی ہے تو آپ کو صرف یہ حق ہے کہ پوری خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ اس کو نصیحت کریں، اور اپنی تنہائیوں میں اس کے لیے رو کر دعا کریں۔ ضروری دلائل کے ساتھ اس کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ اپنی بری روش کو چھوڑ دے۔ اس قسم کی پُرامن اور خیر خواہانہ نصیحت کا حق ہر شخص کو ہے۔ لیکن جب کوئی شخص نصیحت سے آگے بڑھ کر یہ کرے کہ وہ برائی کرنے والے پر حکم لگانے لگے، وہ بُرائی کرنے والے کا بائیکاٹ کرے، وہ بُرائی کرنے والے کے خلاف تشدد کو جائز سمجھے تو یہ دوسری صورت غلو کی صورت ہوگی اور غلو بلاشبہ اسلام میں جائز نہیں۔
سوال
ایک مقرر صاحب نے دورانِ خطاب آپ کے بارے میں کہا کہ آپ جہاد کے بارے میں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues