Al-Risala · January 2006 · page 36

آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۶

کہتے ہیں کہ محدثین کرام نے کتاب الجہاد وغیرہ باب باندھے لیکن کتاب الدعوات وغیرہ جیسے باب نہیں باندھے۔ یہ ایک آپ کا تنقیدی پہلو ہے اور علماء سوء وغیرہ کہہ رہے تھے کہ ایسے عالم کا اعتراض کوئی معمولی نہیں۔ گویا ان کی تنقید کا انکاری پہلو انکار جہاد ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تنقید کرنا، آپ پر عیب لگانے کے برابر، اور آپ پر تنقید کرنے کے برابر ہے۔

ہم اس کی وضاحت چاہتے ہیں۔ چونکہ آپ دین اسلام کی خاطر اتنی کتابیں تالیف و تصنیف کرتے ہیں۔ پھر بھی آپ پر یہ الزام حقیقی ہے یا آپ سے سہو ہوا ہے اور آپ بتقاضۂ بشریت تسلیم کرتے ہیں کہ مجھ سے فلاں غلطی ہوئی۔ (عتیق الرحمن قریشی ، کرنالی)

جواب

میں نے جو بات لکھی ہے اس کا تعلق حدیث سے نہیں ہے بلکہ اُس کا تعلق تدوین حدیث سے ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث ہیں خود اُن میں کثرت سے دعوت یا دعوت کے متعلق موضوعات کا بیان موجود ہے۔ مگر تدوین کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن لوگوں نے احادیث کو مرتب اور مدوّن کیا۔ اس اعتبار سے یہ ایک واقعہ ہے کہ حدیث کے موجودہ مجموعوں میں اُن کے مرتبین نے کتاب الدعوة والتبلیغ کا باب قائم نہیں کیا۔ ان مجموعوں کے اندر ہم کثرت سے ایسی حدیثیں پاتے ہیں جن میں دعوت کا پہلو موجود ہے۔ میں نے اپنی کتابوں اور تحریروں میں ایسی احادیث کو کثرت سے نقل کیا ہے۔ مگر جہاں تک مرتبین حدیث کی بات ہے، اُنھوں نے احادیث کو مرتب کرتے ہوئے دوسرے ابواب تو قائم کیے مگر کتاب الدعوة والتبلیغ کی فصل قائم نہیں کی۔ اس معاملے میں جو کچھ میں نے کہا ہے وہ ایک علمی بات ہے۔ اگر کسی صاحب کا خیال ہے کہ میرا قول درست نہیں تو وہ حدیث کے مجموعوں کا حوالہ دیکھ کر بتائیں کہ ان میں کتاب الدعوۃ والتبلیغ کہاں ہے۔ ایسا کہنا صرف بے بنیاد (سب وشتم) ہے۔ وہ کوئی علمی اعتراض نہیں۔ سوال الرساله جولائی ۲۰۰۲ء ” واردھا کا سفر ابھی ابھی تمام ہوا۔ صفحہ ۲۰ پر آپ نے لکھا ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page