Al-Risala · September 2006 · page 3

فتویٰ ایکٹوزم یا ایجو کیشنل ایکٹوزم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳

فتویٰ ایکٹوزم یا ایجو کیشنل ایکٹوزم

آج کل مختلف قسم کے ایکٹوزم (activism) کا چرچا ہے۔ مثلاً پولٹیکل ایکٹوزم، سوشل ایکٹوزم، ملی ایکٹوزم اور میڈیا ایکٹوزم، وغیرہ۔ انھیں میں سے ایک وہ ہے جس کو جوڈیشیل ایکٹوزم (judicial activism) کہا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پبلک انٹرسٹ ( مفاد عامہ) کے کاموں میں عدالت سے رجوع کر کے اس کا حکم حاصل کرنا، قانون کی مدد سے مفاد عامہ سے تعلق رکھنے والے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ جوڈیشیل ایکٹوزم کا یہ طریقہ سیکولر طبقے کے لوگوں کے یہاں رائج ہے۔

اسی طرح مسلمانوں کے کچھ مذہبی طبقے نے کچھ عرصے سے وہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے جس کو فتویٰ ایکٹوزم کہا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کی اصلاح کے مقصد کے لیے فتوے کا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ مثلاً کسی لباس کو غیر دینی لباس بتا کر اس کے خلاف فتویٰ دینا، کسی مشروب کو غیر اسلامی مشروب بتا کر اس کے حرمت کا فتویٰ جاری کرنا، کسی مذہبی مقام پر عورتوں کے جانے کو ممنوع قرار دینے کے لیے فتویٰ جاری کرنا، کسی کو پیغمبر کی شان میں گستاخی کرنے والا بتا کر اس کے قتل کا فتویٰ صادر کرنا، کسی مصنف کو متنازع قرار دے کر یہ فتویٰ جاری کرنا کہ اس کی کتابیں نہ پڑھو، کسی کو مرتد قرار دے کر اس کے خلاف بائیکاٹ کا فتویٰ جاری کرنا، ٹیلی ویژن یا اسی قسم کی اور چیزوں کو حرام قرار دے کر ان سے اجتناب کرنے کا فتویٰ دینا، بینکنگ اور اسی طرح دوسری نئی چیزوں کو غیر اسلامی قرار دے کر اس کے عدم استعمال کا فتویٰ دینا، وغیرہ۔

اس قسم کے فتوے موجودہ زمانے میں ہزاروں کی تعداد میں دیے گیے ہیں مگر سب کے سب بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہر فتوے کا صرف یہ انجام ہوا کہ وہ مطلوب نتیجہ پیدا نہ کر سکا۔ پورے جدید دور میں مجھے صرف ایک واقعہ معلوم ہے جب کہ مفتی نے استفتا کے باوجود فتویٰ دینے سے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page