Al-Risala · September 2006 · page 4

فتویٰ ایکٹوزم یا ایجو کیشنل ایکٹوزم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴

انکار کر دیا۔ یہی طریقہ میرے نزدیک صحیح طریقہ تھا۔

برٹش دور میں، دہلی میں، ایک عالم تھے ان کا نام مولانا عبدالحق حقانی (وفات ۱۸۳۱) تھا۔ انھوں نے قرآن کی ایک تفسیر لکھی تھی جو ’’تفسیر حقانی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ان کے زمانے میں انگریزی حکومت نے سونا چاندی کے سکے کی جگہ کاغذی نوٹ جاری کیے۔ یہ کاغذی نوٹ روایتی فقہی مسئلے کے اعتبار سے بظاہر غیر اسلامی تھے۔ مولانا عبدالحق حقانی سے یہ فتوی پوچھا گیا کہ کاغذی نوٹ کا طریقہ اسلامی نقطۂ نظر سے جائز ہے یا نا جائز۔ انھوں نے اس استفتا پر کوئی فتوی نہیں دیا، انھوں نے صرف یہ کہا کہ ـــ میرا فتوی نہیں چلے گا اور نوٹ چل جائے گا۔ اس طرح کے معاملے میں یہی صحیح اسلامی طریقہ ہے۔

فتوی کا لفظی مطلب رائے (opinion) ہے۔ فتوے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی شخص خود اپنے بارے میں پوچھے کہ مجھے فلاں معاملہ درپیش ہے۔ میں اس میں کیا کروں۔ مثلاً ایک خاتون کھلاڑی اپنے ڈریس کے بارے میں پوچھے کہ کھیل کے دوران مجھے اسلامی نقطۂ نظر سے کون سا ڈریس استعمال کرنا چاہیے۔ ایسی حالت میں فتویٰ دینا درست ہے۔ یہ وہ حالت ہے جب کہ فتویٰ پوچھنے والا خود اپنے بارے میں حکم کی پیروی کی نیت سے مفتی سے سوال کرے۔ ایسی حالت میں مفتی کو فتویٰ پوچھنے والے کا جواب دینا چاہیے۔ فتویٰ کا صحیح استعمال اور اس کا درست محل یہی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سماج میں ایک بُرائی موجود ہے۔ اس کے بارے میں خود سماج کی طرف سے کوئی سوال نہ کیا جا رہا ہو۔ ایک شخص ذاتی طور پر اُس سماجی مسئلے کو لے کر اس کے متعلق، استفتاء مرتب کرے اور اس کے بارے میں مفتی سے فتویٰ پوچھے ۔ اس صورت میں اگر مفتی فتوی دیتا ہے تو وہ فتوے کا غلط استعمال کرتا ہے۔ ایسا فتویٰ مثبت معنوں میں کوئی اصلاح تو پیدا نہیں کرے گا، البتہ وہ اسلام کی بدنامی کا سبب بن جائے گا۔

مثال کے طور پر کئی سماجی برائیاں ہیں جن کے خلاف مفتی صاحبان نے موجودہ زمانے میں فتوے دیے ہیں۔ مگر مولانا عبدالحق حقانی کی زبان میں، یہ ہوا کہ ان کا فتوی تو نہیں چلا، البتہ برائیاں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page