فتویٰ ایکٹوزم یا ایجو کیشنل ایکٹوزم
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۶
اس طرح جب قبولیت کی استعداد پیدا ہوگئی تو اس کے بعد قرآن میں اترا کہ زنا چھوڑ دو، اور شراب چھوڑ دو۔ ایسا حکم اگر پہلے اُترتا تو لوگ اس کی تعمیل نہ کرتے بلکہ وہ یہ کہتے کہ ہم تو زنا نہ چھوڑیں گے، ہم تو شراب نہ چھوڑیں گے۔ (لا ندع الزنا أبداً ولا ندع الخمر أبداً)
اس سے معلوم ہوا کہ عمومی اصلاح کا کام فتویٰ یا حکم جاری کرنے سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کام کے لیے سب سے پہلے لوگوں کے اندر قبولیت کی استعداد پیدا کی جاتی ہے اس کے بعد ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ استعداد پیدا کیے بغیر حکم دینا کسی بھی درجے میں مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ جب بھی کسی معاشرے میں بگاڑ آتا ہے تو اس کا سبب یہ نہیں ہوتا کہ لوگوں کو حکم یا قانون کا علم نہیں ہے، اس لیے لا علمی کی بنا پر لوگ غلط کاموں میں مبتلا ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرتی بگاڑ کا سبب لوگوں کے اندر اسپِرٹ کی کمی ہوتی ہے نہ یہ کہ وہ حکم اور قانون سے بے خبر ہیں۔ ایسی حالت میں سماج سُدھار یا معاشرے کی اصلاح کا نقطہ آغاز یہ نہیں ہے کہ قانونی حکم کو لے کر فتویٰ صادر کیا جائے ، بلکہ اس کا نقطۂ آغاز یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اسپِرٹ کو جگایا جائے، لوگوں کے اندر شعور کو زندہ کیا جائے، لوگوں کے اندر مادہ قبولیت پیدا کیا جائے۔ جب یہ کام قابلِ لحاظ حد تک ہو جائے اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ لوگوں کو حکم اور قانون کی زبان میں مسائل سے آگاہ کیا جائے ۔ داخلی استعداد پیدا کرنے سے پہلے، خارجی احکام کا اعلان کرنا ایک غلط ترتیب ہے۔ یہ گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا ہے جو کہ یقینی طور پر قابلِ عمل نہیں۔
فتویٰ ایکٹوزم ہو یا دوسرا کوئی ایکٹوزم، ہر ایک کو جانچنے کا طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ عملی طور پر اس کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ کسی عمل کی درستگی کو جاننے کا ذریعہ صرف اس کا صحیح نتیجہ ہے۔ یہ ایک مسلّم اصول ہے کہ عمل کو ہمیشہ نتیجہ رُخی عمل (result-oriented action) ہونا چاہیے ۔ اور فتویٰ ایکٹوزم بلاشبہ اس اصول عام سے مستثنیٰ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues