فتویٰ ایکٹوزم یا ایجو کیشنل ایکٹوزم
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۵
بدستور جاری رہیں۔ مثلاً بدعات کے خلاف فتویٰ، مشرکانہ رسموں کے خلاف فتویٰ، شادیوں میں جہیز کے خلاف فتویٰ، ٹی وی اور سینما کے خلاف فتویٰ، لاؤڈ اسپیکر کے خلاف فتویٰ، بینک انٹرسٹ کے خلاف فتویٰ، داڑھی نہ رکھنے کے خلاف فتویٰ، مغربی لباس کے خلاف فتویٰ، انگریزی تعلیم کے خلاف فتویٰ، وغیرہ۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ تمام فتوے بے نتیجہ ہوکر رہ گئے، معاشرے کے اوپر ان کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ میرے مطالعے کے مطابق، اس معاملے میں صحیح بات یہ ہے کہ صرف صاحب معاملہ کو اپنے بارے میں استفتا کا حق ہے، اور اسی طرح کے معاملے میں مفتی کو فتویٰ دینا چاہیے۔ مثلاً اگر کوئی شخص مفتی کے پاس اس قسم کا استفتا بھیجے کہ فلاں مسجد کے امام کی داڑھی چھوٹی ہے، تو کیا ایسے امام کے پیچھے مقتدیوں کی نماز ہوتی ہے یا نہیں۔ اس قسم کا استفتا ایک فتنہ ہے نہ کہ حقیقتاً کوئی استفتا۔ مفتی کو چاہیے کہ وہ ایسے استفتا کا جواب نہ دے۔ استفتا کا تعلق ،فتویٰ پوچھنے والے کے ذاتی معاملے سے ہے نہ کہ اس کی ذات کے باہر دوسروں کے معاملے سے۔
اب سوال یہ ہے کہ عمومی اصلاح یا معاشرتی اصلاح کے بارے میں اسلام کا طریقہ کیا ہے۔ یہ طریقہ تذکیر اور نصیحت کا طریقہ ہے نہ کہ فتوے کا طریقہ۔ یعنی تحریر اور تقریر کے ذریعے لوگوں کو سمجھانا۔ سمجھانے کا یہ کام ’’قولِ بلیغ‘‘ کی زبان میں ہونا چاہیے۔ یعنی ایسی زبان اور دلیل جو سننے والے کے دل میں اُتر جائے ۔ یہاں تک کہ وہ اس کی صداقت کا اعتراف کرلے۔
نصیحت اور تذکیر کے اس طریقے کو آج کل کی زبان میں ایجوکیشنل ایکٹوزم کہا جاسکتا ہے۔ یعنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کرنا، لوگوں کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اصلاح معاشرہ کے بارے میں اسلام کا اصول ایجوکیشنل ایکٹوزم پر مبنی ہے نہ کہ فتویٰ ایکٹوزم پر۔
اس معاملے میں ایک رہنما مثال وہ ہے جس کا ذکر صحیح البخاری میں آیا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں قرآن کی جو آیتیں اتریں ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ تاکہ لوگوں کے دلوں میں اسلام کے بارے میں نرم گوشہ پیدا ہو اور لوگوں کے اندر ذہنی آمادگی آجائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues