Al-Risala · September 2006 · page 8

سب کچھ امتحان

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۸

کوئی شخص راستہ چل رہا ہو اور اچانک بارش آجائے جس میں اولے ہوں تو وہ کبھی اس پر غصہ نہیں ہوگا بلکہ وہ فوراً کسی قریبی جگہ میں جاکر پناہ لے گا۔ لیکن اسی انسان کو اگر کوئی شخص پتھر مار دے تو وہ فوراً غصہ، انتقام اور نفرت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ آدمی اولے کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے اور پتھر کو انسان کی طرف سے۔ یہی فرق اس طرح کے معاملے میں انسان کی نفسیات کو بدل دیتا ہے۔ وہ اولے کے معاملے میں مثبت رد عمل کا مظاہرہ کرتا ہے اور پتھر کے معاملے میں منفی رد عمل کا مظاہرہ۔

اس مثال سے زندگی کے معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ کامیاب اسلامی زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی ہر نقصان یا ہر ناخوش گوار تجربے کو خدا کی طرف سے سمجھے۔ ایسا سمجھنا اس کے اندر مثبت احساسات کی تعمیر کرے گا۔ وہ اس کو منفی نفسیات میں مبتلا ہونے سے بچائے گا۔ ایسے ہی لوگ خدا کے نزدیک صبر کرنے والے لوگ ہیں، یعنی خدا کے قائم کردہ نظام پر راضی رہنے والے۔ ایسے ہی انسان کو قرآن میں نفس مطمئنہ کہا گیا ہے، اور جنت انھیں لوگوں کے لیے مقدر ہے جو نفس مطمئن کے ساتھ آخرت تک پہنچیں۔

ایک حدیث قدسی میں آیا ہے کہ: أنا عند المنكسرة قلوبهم ۔ میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس رہتا ہوں۔ کون لوگ ہیں جو اس ٹوٹے ہوئے دل کا شکار ہوتے ہیں— یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ مصیبتیں پیش آتی ہیں۔ جو نقصان اور محرومی کا تجربہ کرتے ہیں۔ جن کی زندگی غم میں گزرتی ہے۔ اس صورت حال کی روشنی میں اس حدیث پر اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مصیبت اپنی حقیقت کے اعتبار سے مصیبت نہیں ہے بلکہ وہ ایک رحمت ہے۔ یہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا معاملہ ہے۔

اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ وہ چیز جس کو فلاسفہ اور مفکرین خرابی کا مسئلہ problem (of evil) کہتے ہیں، وہ دراصل غلط تسمیہ (wrong nomenclature) کا معاملہ ہے۔ لوگ جس چیز کو خرابی کہتے ہیں وہ دراصل اس لیے ہے تا کہ انسان سب سے بڑی حقیقت کا تجربہ کرے، یہ سب

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page