سب کچھ امتحان
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۹
سے بڑی حقیقت عجز ہے۔ خدا کے مقابلے میں بندے کی حیثیت ایک عاجز مخلوق کی ہے۔ لیکن ہر آدمی کے چھپی ہوئی انا (ego) اس کو اپنے بارے میں دھوکے میں رکھتی ہے۔ مصیبت کا مقصد یہ ہے کہ آدمی انا کے فرضی خول سے باہر آئے اور اس حقیقت کی دریافت کرے کہ وہ صرف ایک عاجز مخلوق ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
عجز کا یہی احساس انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ عجز کا احساس آدمی کو متواضع (modest) بناتا ہے۔ اس کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ پیدا ہوتی ہے۔ وہ مفروضات سے باہر آ کر حقائق کا ادارک کرنے لگتا ہے۔ گویا کہ مصیبت ہی وہ چیز ہے جو اس دنیا میں اعلیٰ انسانی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔ اعلیٰ انسانی شخصیت کی تعمیر کا دوسرا کوئی کورس یہاں موجود نہیں۔ انسانی زندگی کو سمجھنے کا اصل سرایہ ہے کہ آدمی یہ جانے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کی پوزیشن موجودہ دنیا میں کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں امتحان کے لیے آباد کیا گیا ہے۔ اس دنیا کی خوشی اور غم، کامیابی اور ناکامی، پانا اور کھونا، سب کچھ امتحان کے لیے ہے۔ یہاں طاقت ور آدمی بھی امتحان کی حالت میں ہے، اور کمزور آدمی بھی امتحان کی حالت میں۔
اس دنیا میں کامیابی کا راز یہ نہیں ہے کہ آدمی مادی ساز و سامان اپنے گرد اکٹھا کرلے۔ یہاں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی کو امتحان کا جو پرچہ دیا گیا ہے اس پرچے کو حل کرنے میں وہ کامیاب ٹھہرے۔
یہ نظریہ آدمی کو حقیقت پسند بناتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ وہ اس کو صبر و تحمل والا آدمی بنا دیتا ہے۔ زندگی کا یہ نظریہ جس کے دل میں بیٹھ جائے وہ ہر قسم کی منفی نفسیات سے خالی ہو جائے گا۔ اس کا حال یہ ہو جائے گا کہ وہ دوسروں کے بارے میں سوچنے کے بجائے خود اپنے بارے میں سوچے ۔ وہ دوسروں کی غلطیاں بتانے کے بجائے خود اپنی غلطی پر دھیان دینے لگے۔ فخرو غرور کی نفسیات کا اس کے اندر مکمل خاتمہ ہو جائے۔ سچائی کا اعتراف کرنے میں اس کے لیے کوئی چیز روک نہ بن سکے۔ وہ مصنوعی انسان کے بجائے ایک حقیقی انسان بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues