شناخت کا مسئلہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۵
مسلمانوں سے ملے تو مسلمانوں نے فوراً ان کا نام بدلوايا، اور ان کے لباس اور وضع قطع کو بدل کر انہیں موجودہ مسلم معاشرے کا ایک فرد بنا لیا۔ ایسا کرتے ہی ان کا مطلوب دعوتی رول ختم ہو گیا۔ اس نام نہاد اسلامائزیشن کے بعد مسلمان تو خوش ہو گئے لیکن اسلامی دعوت کا عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ مثلاً ہندوستان میں ایک تعلیم یافتہ بنگالی ڈاکٹر نُشی کانت چٹو پادھیانے ذاتی مطالعے کے تحت اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد فوراً مسلمانوں نے ان کا نام بدل کر انہیں مسلم معاشرے کا ایک ممبر بنا لیا۔ وہ مشہور ہند و خاتون مسر سر و جنی نائڈو کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ بہت بڑا دعوتی کام کر سکتے تھے مگر ظاہری تشخص کو بدلنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مطلوب انداز میں اپنا دعوتی رول ادا کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ اِسی طرح ہنگری کے عبدالکریم جُرمانوس، آسٹریا کے محمد اسد، برطانیہ کے یوسف اسلام، امریکہ کے حمزہ یوسف اور اس طرح کے بہت سے لوگ ہیں جن کا انجام وہی ہوا جو ڈاکٹر نُشی کانت کا ہوا۔ ان میں سے کوئی بھی ”رجل مؤمن“ کا رول ادا کرنے کے قابل نہ رہا۔ ہر ایک بس مسلم معاشرے کا ایک فرد بن کر رہ گیا۔
یہ انسانی نفسیات ہے کہ آدمی جب تک اپنا نام اور اپنا تشخص نہ بدلے وہ اپنی قوم کا ایک فرد شمار کیا جاتا ہے۔ وہ عقیدے یا نظریے کے معاملے میں الگ بات کہنے کے با وجود اپنی اس حیثیت کو باقی رکھتا ہے کہ وہ جو کچھ کہے اس کو اس کی قوم کے افراد کسی توحش کے بغیر سنیں۔ وہ اس کو اپنی ہی قوم کا ایک فرد سمجھ کر اس کی باتوں پر غور کریں۔ لیکن جب وہ اپنا نام اور اپنا تشخص بدل دے تو اس کے اور اس کی قوم کے درمیان ایک دوری قائم ہو جاتی ہے۔ وہ اس کو غیر کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اس کی باتوں کو سننے کے لیے ان کے اندر آمادگی باقی نہیں رہتی۔ اس لیے یہ روش سراسر غیر حکیمانہ ہے کہ اسلام قبول کرتے ہی آدمی کا نام اور حلیہ بدل دیا جائے ۔ کچھ نادان لوگ اس سے خوش ہو سکتے ہیں لیکن خدا کے نزدیک وہ کوئی پسندیدہ بات نہیں، جیسا کہ آل فرعون کے ایک رجل مؤمن کی مثال سے واضح ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues