Al-Risala · September 2006 · page 14

شناخت کا مسئلہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۴

من آل فرعون يكتم ايمانه (المؤمن (۲۸) یعنی آل فرعون میں سے ایمان لانے والے ایک شخص نے کہا جو کہ اب تک اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے شاہی حلقے کا ایک آدمی ایمان لا چکا تھا لیکن فرعون کو یا اس کے درباریوں کو اس کا کوئی علم نہ تھا۔ اس شخص کا نام تفسیروں میں شمعان یا خبرک آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس آدمی کو ایمان کا پیغام کیسے پہنچا۔ ظاہر ہے کہ وہ ہوا کے ذریعے نہیں پہنچا۔ یقینی طور پر وہ وقت کے پیغمبر حضرت موسیٰ کے ذریعہ پہنچا۔ اُس سے حضرت موسیٰ کی ملاقات ہوئی۔ حضرت موسیٰ نے اس کو حق کا پیغام پہنچایا اور پھر اس نے حضرت موسیٰ کے اوپر ایمان قبول کر لیا۔

یہاں واضح قرینے کے طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس کے ایمان کو تو قبول کر لیا لیکن آپ نے اس کا نام نہیں بدلا۔ آپ نے اس کی وضع قطع نہیں بدلی، آپ نے اس کو اس کے سابقہ تشخص پر باقی رہنے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آدمی ایک نازک موقع پر ایک بے حد اہم رول ادا کر سکا۔ حضرت موسیٰ پر ایمان لاتے ہی اگر اس کا نام بدل دیا جاتا اور اس سے کہا جاتا کہ تم اپنے قدیم تشخص کو چھوڑو اور موسیٰ کے تشخص کو اختیار کر لو۔ اگر ایسا کیا جاتا تو مذکورہ رجل مؤمن فوراً فرعون کے حلقے سے کٹ جاتا۔ اس کے بعد وہ اس قابل نہ رہتا کہ وہ فرعون کے دربار میں وہ اہم رول ادا کر سکتا جو اس نے قرآن کے بیان کے مطابق، بعد کو ادا کیا۔

اس واقعے سے ایک عظیم پیغمبرانہ سنت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ داعی کا کام آدمی کے دل کو بدلنا ہے نہ کہ اس کے ظاہری تشخص کو بدلنا۔ اس عظیم حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے موجودہ زمانے میں بڑے بڑے نقصانات ہوئے ہیں۔

بیسویں صدی میں بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد نے اسلام قبول کیا۔ مسلمانوں کی طرف سے کسی حقیقی دعوتی کوشش کے بغیر ان لوگوں نے قرآن کا مطالعہ کیا۔ ان کا دل اس پر مطمئن ہو گیا، اور پھر انھوں نے اسلام کو اپنا دین بنا لیا۔ ایسے افراد ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ اسلام قبول کرتے ہی ان کا دعوتی رول ختم ہو گیا۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد جب وہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page