Al-Risala · September 2006 · page 18

مقبول دعا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۸

رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوجاتے ہیں۔ قادر مطلق، عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ: لا يرد القضاء إلا الدعاء (الترمذی، کتاب القدر، ابن ماجہ) یعنی قضا و قدر کے فیصلے کو صرف دعا بدل سکتی ہے۔ خدا نے اس دنیا کا نظام اسباب و علل کی بنیاد پر قائم کیا ہے، اور پھر انسان کو مکمل آزادی دے دی ہے۔ اب انسان اپنی آزادی کے مطابق عمل کرتا ہے اور خدا کے قائم کردہ نظام اسباب و علل سے مطابقت یا مخالفت کی بنیاد پر اس کا اچھا یا برا نتیجہ اس کے سامنے آتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نظام بالکل حتمی ہے۔ کوئی آدمی خواہ مخلص ہو یا غیر مخلص اُس کو بہر حال اس نظام کو بھگتنا ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے اس نظام کو منسوخ نہیں کیا جاتا۔

اس معاملے میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ دعا کا ہے۔ کوئی آدمی جب سچی دعا کرتا ہے اور اُس وقت اگر خدا اس کی دعا قبول کر لیتا ہے تو وہ اسباب کے نظام میں مداخلت کر کے اس کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ یہی مطلب ہے اس بات کا کہ دعا، قضا و قدر کو بدل دیتی ہے۔

لیکن دعا الفاظ کی تکرار کا نام نہیں ہے۔ حتی کہ قرآنی دعائیں یا ماثور دعائیں بھی اگر صرف رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار ہوں تو وہ بھی مؤثر نہیں ہو سکتیں۔ نظامِ قضا کو بدلنے کے لیے وہ دعا درکار ہے جو دل کو پھاڑ کر کی جاتی ہے۔ جو دل کی پھٹن کی آواز ہوتی ہے۔ جس میں آدمی کی پوری شخصیت شامل ہو جاتی ہے۔

اس قسم کی دعا کی قبولیت کی ایک اور شرط یہ ہے کہ دعا کرنے والے کا ذہنی تزکیہ اتنا زیادہ ہو چکا ہو کہ اس کی سوچ خدا کی سوچ بن جائے۔ ایسا آدمی وہی دعا کرے گا جو خدا کے نزدیک قابل قبول ہوتی ہے۔ اس کی زبان سے ایسی دعائیں نکلے گی جو خدا کی سنت کے مطابق، قابلِ قبول ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page