Al-Risala · September 2006 · page 19

جذبات کو ٹھیس پہنچنا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۹

جذبات کو ٹھیس پہنچنا

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں ایک نئی اصطلاح ظہور میں آئی ہے۔ وہ ہے جذبات کو ٹھیس پہنچنا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو مسلمانوں کے قومی جذبات کے خلاف ہوتا ہے۔ ایسے موقعے پر مسلمان بھڑک اٹھتے ہیں اور مظاہرہ اور تشدد کی کارروائی کرنے لگتے ہیں۔ مسلم دانش ور یہ کہہ کر اس کو جائز بتاتے ہیں کہ اس واقعے سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور جب ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی تو فطری طور پر وہ مشتعل ہو جائیں گے۔ اور مظاہرے کریں گے خواہ وہ تشدد تک پہنچ جائے۔

یہ دلیل بلاشبہ غیر اسلامی ہے۔ مسلمان اگر اس قسم کے پر شور مظاہرے اپنے قومی جذبات کے اظہار کے نام پر کریں تو اس پر کسی کو اعتراض نہ ہوگا۔ لیکن مسلمان اس قسم کے پر شور مظاہروں کو اسلامی حمیت اور اسلامی غیرت کے نام پر کرتے ہیں۔ اس بنا پر وہ ایک غلط فعل قرار پاتا ہے۔ کیوں کہ اس معاملے میں اسلام کی تعلیم سراسر اس کے خلاف ہے۔

قرآن کی واضح تعلیم کے مطابق یہ خود مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ جہاں تک دوسروں کی اشتعال انگیزی کا تعلق ہے تو اس پر مسلمانوں کے لیے صبر اور اعراض کا حکم ہے نہ کہ بھڑک کر اس کے خلاف ہنگامہ آرائی کرنا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی دو آیتوں کا مطالعہ کیجئے۔ ان دونوں آیتوں کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:

پہلی آیت

" اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں تم ان کو گالی نہ دو ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کی نظر میں اس کے عمل کو خوش نما بنا دیا ہے۔ پھر اُن سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ اُس وقت اللہ انھیں بتا دے گا جو وہ کرتے تھے"۔ (الانعام: ۱۵۹)

الرسالۃ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page