Al-Risala · September 2006 · page 29

دوسری آیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۹

صرف یہ ہے کہ نظری دلائل کا زور دوبارہ خدائی سچائی کے حق میں ہو جائے گا۔ نئے حالات میں خدائی سچائی دوبارہ ایک ثابت شدہ سچائی بن جائے گی۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم زمانے میں اگر مظاہر شرک، توحید کا مدِّ مقابل بنے ہوئے تھے تو اب دورِ حاضر میں مال کو توحید کے مدِ مقابل کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ پچھلے زمانے میں یہ ہوا کہ توحید کے حق میں دلائل فراہم کیے گیے اور مظاہرِ فطرت کی پرستش کو دلائل کے ذریعے رد کر دیا گیا۔ اب بعد کے زمانے میں یہ ہوگا کہ توحید کو وقت کے دلائل کے ذریعے مدلّل کیا جائے گا اور مال پر مبنی مادی تہذیب وقت کے دلائل کے ذریعے غلط قرار پا جائے گی۔

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: وددتُ أنّا قدرأینا إخواننا، قالوا اولسنا اخوانك يا رسول الله قال أنتم أصحابى وأخواننا الذين لم يأتو بعد۔ (صحیح مسلم، کتاب الطہارة، جلد ۳، صفحہ ۱۳۸) یعنی میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان کو دیکھیں۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، اور ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔

اس حدیث میں دو خاص گروہوں کا ذکر ہے۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول۔ اصحابِ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیغمبرِ اسلام کے ہم عصر ساتھی تھے۔ جنھوں نے آپ کے ساتھ مل کر دور اول میں خدائی سچائی کا اعلان اور اظہار کیا۔ اور اخوانِ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جو آپ کے بعد آنے والے زمانے میں اٹھیں گے اور اُس وقت خدائی سچائی کا اعلان اور اظہار کریں گے۔ اصحابِ رسول کا تعلق قبل سائنس دور سے ہے اور اخوانِ رسول کا تعلق بعد سائنس دور سے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کی تحریک اسی بعد کے زمانے میں انجام پانے والے کام کے لیے اٹھی ہے۔ سی پی ایس کے لوگ گویا کہ اُس گروہ میں شمولیت کے امیدوار ہیں جس کو مذکورہ حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کا مشن بعد سائنس دور میں خدائی سچائی کے اُس مطلوب اظہار کے لیے اٹھا ہے جس کا ذکر پچھلی تمام مذہبی کتابوں میں کیا گیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page