Al-Risala · September 2006 · page 28

دوسری آیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۸

اور آپ کے اصحاب نے غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے پوری طرح انجام دے دیا یہاں تک کہ قدیم دور کا خاتمہ ہوگیا اور شرک ایک غالب تہذیب کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔

مابعد سائنس دور میں حالات بالکل بدل گئے ہیں۔ سائنس کے بطن سے جدید صنعتی دور پیدا ہوا۔ اس صنعتی دور نے بے شمار قسم کے دل کش سامان حیات پیدا کیے۔ ان سامانونکو حاصل کرنے کے لیے مال کی ضرورت تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانے میں پہلی بار مال کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ ہوگئی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو پیغمبر اسلام نے اس طرح بیان کیا ہے: لكل أمۃ فتنۃ و فتنۃ امتی المال (الترمذی، کتاب الزہد، مسند احمد) یعنی ہر امت کا ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ یہاں امت سے مراد امت کا زمانہ ہے۔ یعنی میری امت کے زمانے میں مال سب سے زیادہ فتنے کا سبب بن جائے گا۔

شرک یہ ہے کہ خدا کے سوا کسی اور چیز کو عظیم سمجھ کر اس کو اپنا سب سے بڑا کنسرن (concern) بنا لیا جائے۔ پچھلے زمانے میں مظاہر فطرت سب سے بڑی چیز دکھائی دیتے تھے اس لیے انسان مظاہر فطرت کو سب سے بڑی چیز سمجھ کر ان کو پوجتا رہا۔ اب دور سائنس میں مظاہر فطرت کی الہیاتی عظمت ختم ہوگئی ہے۔ اب نئے حالات نے مال کو سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ بڑی چیز بنا دیا ہے۔ چنانچہ اب بت پرستی (Idol worship) کی جگہ دولت پرستی (money worship) نے لے لی ہے۔ اس نئے دور کو دوسرے الفاظ میں مادیت (materialism) کہا جاتا ہے۔

مذاہب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر مذہب میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ بعد کے زمانے میں ایک نیا دورِ انقلاب آئے گا جب کہ خدائی سچائی از سر نو ظاہر اور غالب ہو جائے گی۔ یہ اظہار یا غلبہ فکری اعتبار سے ہوگا نہ کہ سیاسی اور معجزاتی اعتبار سے۔

مذاہب میں دورِ آخر کے جس انقلاب کی پیشین گوئی کی گئی ہے اس سے مراد سائنسی دور کا انقلاب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سائنسی دور میں ایک تحریک اٹھے گی جو خدائی سچائی کو نئے حقائق کی روشنی میں از سر نو مبرہن کر دے گی۔ اس سے مراد کسی قسم کا سیاسی یا مادی غلبہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page