Al-Risala · September 2006 · page 36

دوسری آیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۶

غالباً اس کا سبب یہ تھا کہ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان اپنے دور حکمرانی میں پہنچ گئے۔ اس کے بعد سیاست اور حکومت یا اس سے متعلق ابواب ہی ان کی توجہ کا مرکز بن گئے ۔ یہاں تک کہ یہ ذہن اتنا عام ہوا کہ اب دوسرے ملی مقاصد پر تحریکیں اٹھائی جاتی ہیں اور اس کو دعوت و تبلیغ کی تحریک سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ بات بڑی عجیب ہے کہ بعد کے زمانے میں تیار ہونے والے اسلامی لٹریچر میں دعوت کا تصور حذف ہو گیا۔ تاہم یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے پیچھے ایک معلوم سبب کام کر رہا ہے۔ اصل یہ ہے کہ عباسی دور میں جب فقہ کی تدوین عمل میں آئی، اُس وقت مسلمان دنیا کے بڑے حصے میں سیاسی حاکم کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُس زمانے میں مسلمانوں کا سیاسی امپائر قائم تھا۔ جب بھی اس قسم کا کوئی سیاسی امپائر قائم ہوتا ہے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ دوسری قوموں سے اس کی رقابت (rivalry) قائم ہو جاتی ہے۔ بار بار دونوں کے درمیان چھوٹی یا بڑی لڑائیاں پیش آتی رہتی ہیں۔ اس سیاسی پس منظر میں حالات کے تقاضے کے تحت، ایسا ہوا کہ فقہاء کے ذہن میں شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ تقسیم قائم ہوگئی کہ جس علاقے میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہے وہ علاقہ دارالاسلام ہے، اور جس علاقے میں مسلمانوں کی حکومت قائم نہیں وہ علاقہ دارالحرب ہے۔ فقہ کی کتابوں میں بالکل محدد انداز میں دارالحرب کی تعریف نہیں ملتی۔ تاہم عمومی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دارالحرب سے مراد وہ ملک ہے جس سے مسلمان یا تو عملاً برسرِ جنگ ہوں یا وہ اُس ملک سے امکانی طور پر برسرِ جنگ (potentially at war) ہوں۔ یہی وہ ذہن ہے جس نے مسلمانوں کے عوام اور خواص کے ذہن سے دعوت کا تصور حذف کر دیا۔ اب وہ غیر مسلموں کو حریف اور رقیب کی نظر سے دیکھنے لگے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، مسلم اور غیر مسلم کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ اس تعلق کو قرآن میں شاہد اور مشهود (البروج (۳) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن غیر مسلم علاقے کو دارالحرب قرار دینے کا یہ فطری نتیجہ تھا کہ اُن علاقوں میں بسنے والے لوگ، مدعو کا درجہ نہ پاسکے۔

پچھلے ہزار سال میں پہلی بار ایسا ہوا کہ سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت تیار ہونے والے لٹریچر میں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page