Al-Risala · September 2006 · page 37

دوسری آیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۷

بتایا گیا کہ غیر مسلم ہمارے لیے مدعو اور تمام غیر مسلم علاقے اسلامی نقطہ نظر سے دار الدعوۃ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پچھلے ہزار سال کے دوران مختلف زبانوں میں جو اسلامی کتابیں لکھی گئیں وہ اس تصور سے پوری طرح خالی ہیں۔

تاہم جہاں تک دعوتی عمل (Dawah Process) کا تعلق ہے، وہ ہر زمانے میں خاموش طور پر جاری رہا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر طالب حق پیدا ہوتا ہے۔ ہر انسان خود اپنی فطرت کے زور پر حق کا متلاشی ہے۔ دوسری طرف قرآن استثنائی طور پر ایک محفوظ خدائی کلام کی حیثیت سے دنیا میں موجود ہے، چنانچہ فطرت اور کلام الہی کے باہمی تعامل کی بنا پر دعوت کا عمل خود اپنے زور پر ہمیشہ جاری رہا، اور اسی طرح وہ ہمیشہ جاری رہے گا۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کا پہلا خطاب ہمیشہ اپنے ہم عصر خواص سے ہوتا ہے۔ ان خواص کے لیے قرآن میں ملأء قوم (الاعراف ۶۰)کا کا لفظ آیا ہے۔ اس پیغمبرانہ نمونے سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلموں میں دعوت کا عمل کس طرح کیا جائے۔ اس کا طریقہ ہمیشہ یہ ہوگا کہ غیر مسلم قوم کے خواص کو اپنا اولین مخاطب بنایا جائے گا۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ بالواسطہ طور پر اس کے مخاطب بنتے چلے جائیں گے۔ یہی پیغمبرانہ طریقہ ہے۔ اس کے بجائے عوام سے دعوت کے کام کا آغاز کرنا پیغمبرانہ نمونے سے انحراف کے ہم معنی ہے۔

اس ترتیب کی ایک خاص حکمت ہے۔ وہ یہ کہ خواص اپنے علم اور اپنے ذہنی مرتبے کے اعتبار سے اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ اعلیٰ حقائق کو سمجھ سکیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب داعی، خواص کی نسبت سے اسلام کو پیش کرتا ہے تو اپنے آپ اسلام کی ترجمانی اعلیٰ سطح پر ہونے لگتی ہے۔ اب اسلام اپنی برتر سطح پر لوگوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور لوگوں کے لیے اعلیٰ سطح کے ایمان اور معرفت کے حصول کا سبب بنتا ہے۔

اس کے برعکس، جب داعی نچلی سطح کے لوگوں کو اپنا مخاطب بنائے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ داعی کا طرزِ خطاب بدل جاتا ہے۔ اب اسلام کی نمائندگی نچلی سطح پر ہونے لگتی ہے۔ مثلاً اگر خواص

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page