Al-Risala · September 2006 · page 42

ذہنی تناؤ کا مسئلہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴۲

مسائل بدستور اس کی پریشانی کے لیے موجود تھے۔ یہ احساس اب بھی اس کو ستارہا تھا کہ واقعات اس کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ اس کی ہر خواہش صرف جُوتی طور پر پوری ہو رہی تھی، کُلّی طورپر نہیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انسان فطری طور پر لامحدود خواہشیں لے کر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن وہ دنیا جس کے اندر وہ اپنی زندگی گزارتا ہے وہ صرف ایک محدود دنیا ہے۔ انسان پیدائشی طور پر ایک معیار پسند (perfectionist) مخلوق ہے، لیکن یہ دنیا جس کے اندر وہ اپنی زندگی گزارتا ہے وہ ایک غیر معیاری دنیا ہے۔ طلب اور واقعے کے درمیان یہی فرق ہے جو ذہنی تناؤ کا سبب بنتا ہے۔ اس کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے حقیقت کا اعتراف۔

اصل یہ ہے کہ خالق نے موجودہ دنیا کو صرف مقام امتحان کے طور پر بنایا ہے۔ اس بنا پر موجودہ دنیا کی ہر چیز محدود ہے، وہ اعلیٰ معیار سے کم ہے۔ کوئی بھی صنعتی ترقی محدود خواہشوں کو پورا نہیں کر سکتی۔ اب صورتِ ہال یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش کے اعتبار سے کامل ہے، لیکن موجودہ دنیا ایک غیر کامل دنیا ہے۔ انسان سب کچھ چاہتا ہے لیکن اس کو صرف کچھ ملتا ہے۔ محرومی کی یہی صورتِ حال، ذہنی تناؤ کا اصل سبب ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ انسان اس بات کو جانے کہ کوئی بھی ترقی یا کوئی بھی کامیابی اپنی محدودیت کی بنا پر اس کو وہ سب کچھ نہیں دے سکتی جس کو وہ پانا چاہتا ہے۔ غیر کامل دنیا میں کامل یافت ممکن ہی نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اگلی دنیا کو اپنی طلب کی منزل بنائے۔ وہ یہ جانے کہ جو کچھ وہ آج کی دنیا میں پانا چاہتا ہے وہ صرف گل کی دنیا میں ملنے والی ہے۔ کسی طالبِ علم کو امتحان حال میں جاب نہیں مل سکتا۔ اسی طرح کسی انسان کو موجودہ امتحانی دنیا میں اس کا تمام مطلوب حاصل نہیں ہو سکتا۔ ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا راز صرف یہ ہے کہ آدمی خدا کے تخلیقی نقشے پر راضی ہو جائے۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق جینے کے بجائے خدا کے منصوبے کے مطابق جینے لگے۔ وہ اپنی سوچ کو خدا کی سوچ کے تابع کر دے۔ یہی ڈی اسٹریسنگ کا واحد کامیاب فارمولا ہے۔ یہی وہ واحد تصور ہے جو ذہنی تناؤ کو مکمل طور پر ختم کرنے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page