Al-Risala · September 2006 · page 43

سادہ فارمولا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴۳

سادہ فارمولا

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ نماز کا وقت ہوا تو وہ ہمارے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے ۔ نماز کے دوران ان کے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ نماز ختم ہونے تک بار بار گھنٹی بجتی رہی ۔ اس کی وجہ سے نمازی ڈسٹرب ہوتے رہے۔ معلوم ہوا کہ یہ اُن کے نوجوان بیٹے کا ٹیلی فون تھا۔ وہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ واپس آئے تو اُنھوں نے اپنے باپ کو گھر پر نہ پایا۔ اُنھیں پریشانی ہوئی کہ والد صاحب کہاں چلے گئے ۔ اس پریشانی میں وہ بار بار ٹیلی فون کی گھنٹی بجاتے رہے۔ اُنھوں نے ٹیلی فون کر کے اپنے بیٹے کو بتایا کہ میں اس وقت یہاں ہوں اور کچھ دیر کے بعد آؤں گا۔

میں نے کہا کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر آپ کے صاحب زادے بار بار آپ کو ٹیلی فون کریں اور اس طرح اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کریں۔ آپ نے اپنے صاحب زادے کو لاڈ پیار تو خوب کیا ہوگا لیکن ان کو زندگی کا اصول نہیں بتایا۔ میں نے کہا کہ انگریزی کا ایک مقولہ ہے۔ یہ مقولہ لمبے انسانی تجربے کے بعد بنا ہے۔ وہ مقولہ یہ ہے کہ ــــ خبر نہ ہونا اچھی خبر ہے: No news is good news. میں نے کہا کہ میں نے زندگی میں بار بار سفر کیے ہیں۔ مگر میرے گھر والے کبھی ایسا نہیں کرتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ میں نے اپنے گھر والوں کو بہت پہلے یہ مقولہ بتا دیا تھا۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ اگر میرے بارے میں کوئی خبر نہ آئے تو سمجھ لو کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ کیوں کہ اگر کوئی حادثہ پیش آئے تو فوراً اس کی خبر یہاں آجائے گی۔ میری اس بات پر مذکورہ بزرگ صرف مسکرا دیے۔ اُنھوں نے ایسا نہیں کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ٹیلی فون کر کے بتائیں کہ آج ایک بہت قیمتی اصول مجھ کو معلوم ہوا ہے۔ اس کو تم پکڑ لو۔ وہ اصول یہ کہ جب تک کوئی بُری خبر نہ آئے سمجھ لو کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ اُنھوں نے کیوں اپنے بیٹے کو یہ بات نہیں بتائی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی محبت میں اتنا زیادہ سرشار تھے کہ وہ سوچ نہیں سکتے تھے کہ میرے بیٹے نے کوئی غلطی کی ہے۔ اس قسم کی محبت

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page