نماز، قرآن میں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳
نماز، قرآن میں
قرآن کی سورہ نمبر ۲۹ میں بتایا گیا ہے کہ: اِنَّ الصَّلوةَ تنهى عن الفحشاء والمنكر (العنكبوت: ۴۵) یعنی بے شک نماز فحش اور منکر باتوں سے روکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص نماز کے فارم کو دہرائے تو خود بخود اس کا یہ عملی نتیجہ ہوگا کہ وہ بُری باتوں اور بُرے کاموں سے رُک جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا تو فارم والی نماز پڑھنے والے کروڑوں لوگ ہر بُری بات اور ہر بُرے کام سے رُکنے والے دکھائی دیتے۔ حالاں کہ ایسا نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اس آیت میں نماز سے مراد نماز کی اسپرٹ ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی انسان کے اندر نماز والی اسپرٹ پیدا ہو جاتی ہے تو اس کے اندر بُرائیوں سے بچنے کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ نفسیاتِ نماز اس کے لیے فحش اور منکر سے ناہی (restrict) کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ نماز دراصل ایک تربیت ہے نہ کہ صرف ایک رسم۔ آیت میں دراصل تربیت یافتگانِ نماز کا ذکر ہے نہ کہ صرف رسمی طور پر فارم کو ادا کرنے والوں کا ذکر۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ فارم کوئی غیر اہم چیز ہے۔ اصل یہ ہے کہ فارم داخلی اسپرٹ کا ایک خارجی ظہور ہے۔ جہاں اسپرٹ ہوگی وہاں یہ خارجی ظہور بھی یقیناً پایا جائے گا۔ اس معاملے کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ نماز کا فارم، نماز کی اسپرٹ کا ظہور یا اسپرٹ اِن ایکشن (spirit in action) ہے۔ ہر عبادتی فارم کا معاملہ یہی ہے۔ اگرچہ عبادت میں اصل اہمیت اسپرٹ کی ہے، لیکن اسپرٹ جب زندہ ہو تو فطری طور پر وہ حرکتِ عمل (activities) کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ نماز کے لیے آدمی جب وقت پر اٹھتا ہے، وہ وضو کرتا ہے، وہ مسجد جاتا ہے، وہ لوگوں کے ساتھ باجماعت نماز میں شریک ہوتا ہے اور پھر لوگوں سے مل کر وہ واپس آتا ہے، اور پھر یہی کام وہ روزانہ پانچ بار کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کی عبادت، حرکتِ عمل میں (activities) بدل جاتی ہے۔ اسپرٹ کے بغیر حرکتِ عمل نہیں، اور حرکتِ عمل کے بغیر اسپرٹ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues