Al-Risala · October 2006 · page 4

نماز، قرآن میں

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴

اسپرٹ آن ایکشن کے معاملے کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مختلف ملکوں میں قومی دن منائے جاتے ہیں ۔ مثلاً ہندوستان میں ۱۵ اگست کو یوم آزادی ، ۲۶ جنوری کو یوم جمہور یہ وغیرہ ۔ بظاہر یہ کچھ رسمی تقریبات (celeberation) منانے کا دن ہوتا ہے۔ مگر ان کی اہمیت صرف ان ظاہری تقریبات کی بنا پر نہیں بلکہ اُس داخلی اسپرٹ کی بنا پر ہوتی ہے، جس کے تحت ان کو منایا جاتا ہے۔

یہ داخلی اسپرٹ کیا ہے۔ یہ داخلی اسپرٹ حبّ الوطنی ہے۔ یعنی وطن سے اپنے تعلق کو یاد کرنے کے لیے کچھ تاریخی دنوں میں بعض تقریبات منانا۔ اس اعتبار سے ہندوستان کے یومِ آزادی یا یومِ جمہور یہ کو حب الوطنی کا عمل (patriotis in action) کہا جا سکتا ہے۔

یہ معاملہ زندگی کی ہر سرگرمی سے تعلق رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کا ایک دوست لمبے عرصے کے بعد آپ کے پاس آتا ہے اور آپ سے ملاقات کرتا ہے۔ دوست کو دیکھ کر آپ کے اندر محبت کا جذبہ بھڑک اٹھے گا۔ آپ اٹھ کر اس سے ملیں گے ۔ اس سے معانقہ کریں گے۔ اس کو لے جاکر عزت کے ساتھ بٹھائیں گے۔ ٹیلی فون کے ذریعے دوسروں کو بتائیں گے کہ آپ کا فلاں دوست آیا ہوا ہے۔ اس کے لیے کھانے پینے اور آرام کرنے کا اہتمام کریں گے ، وغیرہ۔

محبوب دوست کے لیے آپ کی یہ تمام سرگرمیاں عملاً محبت (love in action) کا مصدا ق ہیں۔ آپ کی ظاہری سرگرمیاں گویا کہ داخلی محبت کا خارجی ظہور ہیں۔ محبت اگر چہ اصلاً ایک داخلی حالت کا نام ہے، لیکن مذکورہ سرگرمیاں بھی اس کا لازمی جُز ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان مثالوں سے عبادت کی روح اور اس کے فارم کے باہمی تعلق کو سمجھا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues

Printed page