Al-Risala · October 2006 · page 6

دعوت اور داعی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۶

مرنے کے بعد اسی نہ دکھائی دینے والی دنیا کی طرف جاتا ہے، اور اس کے تقاضوں کا سامنا کرنا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو دعوت کے عمل میں مسلمانوں کے معاشرے کا صالح ہونا یا غیر صالح ہونا ایک غیر متعلق بات ہے۔ اس معاملے میں اصل اہمیت صرف دو چیزوں کی ہے— استدلال اور یقین۔ ایک، یہ کہ داعی کے پاس ایسی دلیل کا سرمایہ موجود ہو جو مدعو کو مطمئن کر سکے۔ دوسری بات یہ کہ داعی کو خود سچائی کی اتنی گہری معرفت ہو کہ وہ پورے یقین کے ساتھ اس کی طرف دعوت دے سکے۔ اس کا یقین اتنا بڑھا ہوا ہو کہ جب وہ اس کے بارے میں بولے تو ایسا محسوس ہو کہ وہ لوگوں کو کسی ایسی چیز سے باخبر کر رہا ہے جس کو اس نے خود دیکھا ہے۔

داعی جب دوسروں کے درمیان دعوت کا کام کرتا ہے تو اُس وقت نکتۂ دعوت کیا ہوتا ہے۔ اُس وقت اس کا نکتۂ دعوت یہ نہیں ہوتا کہ ہم نے اپنے یہاں ایک صالح نظام زندگی بنا لیا ہے، تم اس کو دیکھو اور تم بھی ویسا ہی نظام اپنے یہاں بناؤ۔ داعی کا دعوتی نکتہ یہ نہیں ہوتا۔ داعی کا دعوتی نکتہ صرف یہ ہوتا ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان کیا تعلق ہے، اور دعوت کے بعد کی زندگی میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ اسی کو قرآن میں انذار اور تبشیر کہا گیا ہے۔ گویا کہ اسلام میں نکتۂ دعوت اس کا نظری پہلو ہے نہ کہ اس کا نظامی پہلو۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری سیرت اسی دعوتی نقطۂ نظر کی تائید کرتی ہے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی اسلامی انقلاب کی تحریک بیسویں صدی کے نصف اول میں شروع ہوئی اور صدی کے آخر تک پورے بر صغیر ہند میں پھیل گئی۔ علماءِ اسلام کی طرف سے اس تحریک پر مثبت اور منفی دونوں قسم کے ردّ عمل سامنے آئے۔ زیرِ نظر کتاب میں اس تحریک کا اور اس کے بانی کی شخصیت کا علمی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس موضوع پر یہ کتاب ایک جامع مطالعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues

Printed page