دعوت اور داعی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۵
دعوت اور داعی
قرآن اور حدیث میں دعوت کے لیے دوسرا لفظ جو استعمال ہوا ہے وہ شہادت ہے۔ اسی طرح داعی اور مدعو کے لیے جو دوسرے الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ شاہد اور مشہود کے الفاظ ہیں۔ یہ بات بہت معنی ہے۔ اس پر غور کرنے سے ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔
شاہد کا مطلب گواہ(witness) ہے۔ گواہ کون ہے۔ گواہ سے مراد وہ شخص ہے جس نے زیر بحث واقعہ کودیکھا ہو، یاکسی چیز کے بارے میں وہ ابتدائی معلومات دے سکے: Witness: a person who saw, or can give a first-hand account of something. دعوت سے مراد یہ ہے کہ غیر مسلموں میں حق کا پیغام پہنچایا جائے ۔ جب مسلمانوں کو ان کی یہ دعوتی ذمے داری یاد دلائی جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں پہلا کام خود مسلمانوں کی اصلاح ہے۔ یعنی مسلم سماج اور مسلم ریاست کو صحیح اسلامی اصول پر قائم کرنا۔ کیوں کہ اگر مسلمان خود ہی بگڑے ہوئے ہوں اور اُن کے درمیان صالح معاشرہ اور صالح نظام حکومت قائم نہ ہو تو غیر مسلموں کو کس طرح اسلام کی طرف بلایا جاسکتا ہے۔
یہ ایک غیر متعلق(irrelevant) بات ہے۔ کیوں کہ اسلامی دعوت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو مسلم سماج کی طرف بلایا جائے ۔ اسلامی دعوت کا مقصد لوگوں کو مسلمانوں کی طرف بلانا نہیں بلکہ اسلام کی طرف بلانا ہے۔ لوگوں کو یہ بتانا کہ ان کا ایک خدا ہے۔ لوگوں کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا، لوگوں کو جنت اور جہنم کی خبر دینا، لوگوں کو یہ بتانا کہ خدا ایک دن تم کو جمع کرے گا اور تمھارا حساب لے گا، اور پھر لوگوں کے لیے ان کے ریکارڈ کے مطابق ، جنت یا جہنم کا فیصلہ کرے گا۔ گویا کہ دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ جو لوگ دکھائی دینے والی دنیا(seen world) میں جیتے ہیں، ان کو یہ بتانا کہ یہاں ایک نہ دکھائی دینے والی دنیا(unseen world) موجود ہے، اور تم کو آخر کار
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues