Al-Risala · October 2006 · page 8

اخلاق، محفوظ انسانی سفر کا ضامن

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۸

نام قانونِ فطرت (law of nature) ہے، اور انسانی دنیا میں اس کو اخلاقی اقدار (moral values) کہا جاتا ہے۔

انسان اور کائنات دونوں کو ایک خدا نے پیدا کیا ہے۔ دونوں کی کارکردگی کے لیے اس نے ایک ہی قانون مقرر کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بقیہ کائنات میں یہ قانون براہِ راست طور پر خود خدا نے نافذ کر رکھا ہے۔ لیکن انسان کو خدا نے یہ عزت دی ہے کہ اس کو آزاد اور خود مختار بنایا ہے۔ بہتر انسانی سماج بنانے کا راز یہ ہے کہ انسان اسی خدائی قانون کو خود اپنے ارادے سے اپنی زندگی میں نافذ کرے۔

خلا میں اُن گنت ستارے ہیں۔ ہر ایک نہایت تیزی کے ساتھ وسیع خلا میں گردش کر رہا ہے۔ لیکن ان کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اس کا راز یہ ہے کہ ہر ستارہ اور سیارہ اپنے اپنے مقرر مدار (orbit) پر گردش کرتا ہے۔ کوئی ستارہ دوسرے ستارے کے مدار میں داخل نہیں ہوتا۔ گردش کا یہ انضباطی اصول، ستاروں کے درمیان ٹکراؤ نہیں دیتا۔ یہی اصول، انسان کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو اپنے دائرے کے اندر محدود رکھے۔ اس کے بعد انسانی سماج میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہوگا۔ یہی فارمولا پلس فُل سماجی تعلقات کا واحد فارمولا ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں تو وہ نہایت تیزی کے ساتھ میدان سے گزرتی ہیں۔ یہاں سر سبز پودے ہوتے ہیں۔ یہ پودے ہواؤں کے طوفان میں نہیں ٹوٹتے۔ اس کا سبب یہ ہے وہ ہوا کے مقابلے میں کبھی نہیں اکڑتے۔ جب ہوا کا جھونکا آتا ہے تو پودا فوراً جھک کر ہوا کو گزرنے کا موقع دے دیتا ہے۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ سماجی زندگی میں اکڑ کے بجائے سمجھوتہ اور ایڈجسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کرے۔

پہاڑوں پر برف پگھلتی ہے اور اس سے چشمے جاری ہوجاتے ہیں۔ چشمے کے راستے میں بار بار پتھر آتے ہیں مگر چشمہ ایسا نہیں کرتا کہ پہلے وہ پتھر کو اپنے راستے سے ہٹائے اور پھر اس کے بعد اپنا سفر جاری کرے۔ بلکہ وہ مُڑ کر پتھر کے کنارے کی طرف سے اپنا راستہ بنا لیتا ہے، اور آگے کی طرف رواں ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues

Printed page