Al-Risala · October 2006 · page 9

اخلاق، محفوظ انسانی سفر کا ضامن

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۹

ہو جاتا ہے۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ٹکراؤ کو اوائڈ کر کے اپنا راستہ بنائے نہ کہ وہ رُکاوت سے ٹکراؤ شروع کر دے۔

درخت انسان کے لیے آکسیجن نکالتا ہے، اور ہوا اس کو لے کر اسے انسان تک پہنچاتی ہے۔ لیکن درخت اور ہوا اپنے اس عمل کے لیے انسان سے اس کی کوئی قیمت نہیں مانگتے۔ ایسا ہی انسان کو کرنا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے۔ اور اپنے اس عمل کے لیے لوگوں سے کسی قیمت کا تقاضا نہ کرے۔

گائے خدا کی ایک زندہ انڈسٹری ہے۔ گائے کو اس کا مالک گھاس کھلاتا ہے، لیکن گائے اس کے بدلے میں اپنے مالک کو دودھ لوٹاتی ہے۔ وہ دوسروں سے غیر دودھ (non-milk) کو لیتی ہے اور پھر ان کو اپنی طرف سے دودھ (milk) کا تحفہ واپس کرتی ہے۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ جب بھی اس کو کسی سے منفی تجربہ ہو تو اس کے جواب میں وہ اس کے ساتھ مثبت سلوک کی روش اختیار کرے۔ کسی مقام پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہوں اور وہ زمین پر پڑے ہوئے دانے چُگ کر خوش خوش اس کو کھارہی ہوں۔ ایسی حالت میں آپ ان کی طرف ایک کنکر پھینک دیں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ چڑیاں اُڑ کر درخت کی شاخ پر پہنچ گئیں، اور دوبارہ وہاں چہچہانے لگیں۔ نفرت اور شکایت جیسی چیز کسی چڑیاں کے دل میں کبھی جگہ نہیں پاتی۔ یہی طریقہ انسان کا ہونا چاہیے۔ انسان کو بھی ایسا بننا چاہیے کہ جب کوئی شخص اس کو ستائے یا اس کو کوئی نقصان پہنچائے تو وہ نفرت اور شکایت کو اپنے دل میں جگہ نہ دے۔ وہ منفی حالات کے باوجود اپنے آپ کو مثبت نفسیات پر قائم رکھے۔

دنیا کی تمام چیزیں قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کی حامل ہیں۔ اس مادی دنیا میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس معاملے میں استثناء کی حیثیت رکھتی ہو۔ مثلاً ستارے ہمیشہ اپنی مقرر رفتار پر پوری حمیت کے ساتھ قائم رہتے ہیں۔ ببول کے بیج سے ہمیشہ ببول کا درخت نکلتا ہے اور انگور کے بیج سے ہمیشہ انگور کا درخت، وغیرہ۔ یہی کردار انسان کا بھی ہونا چاہیے۔ انسان کو بھی اس طرح قابل پیشین گوئی عمل کے معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ قابل پیشین گوئی کردار یہ ہے کہ کسی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues

Printed page