Al-Risala · January 2006 · page 43

Interfaith Bridge-building Session

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۳

۱۲- اٹلی میں ایک تنظیم ایسوشیزون کلچرپل ارمنونا (Associazione Culturale Armonia) کے نام سے ہے۔ اُس کا صدر دفتر نوالے (Noale) میں قائم ہے۔ اس تنظیم کا ایک وفد اس کے صدر ائٹمبری ماریو (Atombri Mario) کی قیادت میں ۳ جولائی ۲۰۰۵ کونئی دہلی آیا اور صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ اُنھوں نے تقریباً دو گھنٹے تک اسلام اور روحانیت کے موضوع پر گفتگو کی۔ اسلام کے روحانی تصور سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ اُنھیں اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات دی گئیں۔ اس کے علاوہ ان کی فرمائش پر اُن کو یہ دعا لکھ کر دی گئی: اللهم أنت السلام ومنك السلام وإليك يرجع السلام، اللهم حیینا بالسلام وادخلنا دارك دار السلام۔ تبارکت ربنا وتعالیت یا ذا الجلال والاکرام۔ اس دعا کو اُنھیں رومن رسم الخط میں لکھ کر دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ دعا ہم کو بہت پسند ہے اور ہم اس کو اپنے کارکنوں کی مجلس میں باقاعدہ ورد کے انداز میں پڑھیں گے۔

۱۳۔ ۵ جولائی ۲۰۰۵ کو اجودھیا میں قدیم بابری مسجد کے علاقے میں خود کش حملہ ہوا۔ اس سلسلے میں نئی دہلی کے آج تک ٹی وی اور انڈیا ٹی وی نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ دونوں میں یہ کہا گیا کہ اس قسم کا واقعہ ہر حال میں قابل مذمت ہے۔ اسلام میں تشدد جائز نہیں۔ صرف حکومت یا عدالت تحقیق و تفتیش کے بعد بقدر ضرورت تشدد کا فیصلہ کرسکتی ہے، عوام کو کسی حال میں تشدد کی اجازت نہیں۔

۱۴۔ ہندی روزنامہ مہا میگھا (AHEHA) کے نئی دہلی کے نمائندہ مسٹر بنجے کمار شاہ نے ۱۳ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ’’آتنک واد اور اسلام سے تھا۔ جواب میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ آتنک واد کا فعل جو آج آپ دیکھ رہے ہیں وہ مسلمانوں کا فعل ہے وہ اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ نہیں۔ ۱۵- اسلامی مرکز کے تحت اسپرچول کلاس کا ہفتہ وار سلسلہ جنوری ۲۰۰۱ سے جاری ہے۔ اب تک یہ کلاس سی-۲۹ نظام الدین ویسٹ میں ہورہی تھی۔ ۱۱۷ جولائی ۲۰۰۵ سے اس کا سلسلہ سی -۱، نظام الدین ویسٹ مارکٹ میں شروع کیا گیا ہے۔ اس کلاس میں ہندو اور مسلمان دونوں فرقوں کے تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوتے ہیں۔ چوں کہ شرکاء کی تعداد کافی بڑھ گئی تھی اس لیے جگہ بدلنے کا فیصلہ کیا گیا۔

۱۶۔ ایک نئی کتاب زیر ترتیب ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے حالات پر مشتمل ہوگی۔

۱۷- مالدیپ میں عرصے سے ماہنامہ الرسالہ جارہا ہے۔ نیز الرسالہ مطبوعات بھی وہاں بڑی تعداد میں پہنچی ہیں۔ اب مالدیپ کے کچھ لوگ الرسالہ مطبوعات کا ترجمہ وہاں کی مقامی زبان میں شائع کر رہے ہیں۔ اب تک اس قسم کے کئی ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں مالدیپ سے ایک خط موصول ہوا ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page