Interfaith Bridge-building Session
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۲
صدر اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں قرآن و حدیث کی روشنی میں مذکورہ موضوع پر خطاب کیا۔ اس سیمینار کی کارروائی سردار پٹیل بھون (نئی دہلی) میں ہوئی۔ صدر اسلامی مرکز کے ساتھ اسپرچول کلاس کے گیارہ افراد شریک ہوئے۔ ان افراد نے سیمینار کے شرکاء سے ملاقاتیں کیں اور ان کو اسلامی لٹریچر دیا۔ لوگوں نے بہت شوق سے اسلامی لٹریچر کو لیا اور کہا کہ وہ ضرور اس کا مطالعہ کریں گے۔
۹۔ یو۔ این۔ آئی (نئی دہلی) کی نمائندہ ناز اصغر نے ٹیلی فون پر ۲ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں میں پانچ بڑے فقہی اسکول ہیں۔ مالکی، حنبلی، شافعی، حنفی اور جعفری۔ ہر مکتب فکر کے علماء اپنے مسلک پر فتوے دیتے رہتے ہیں۔ ان میں سے کسی کے فتوے کو شرعی فتوی نہیں کہا جاسکتا۔ ہر فتویٰ اپنے فقہی اسکول کی طرف منسوب رہے گا اور لوگوں کو یہ حق باقی رہے گا کہ وہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس کو جانچیں اور اگر وہ پائیں کہ یہ فتویٰ قرآن و حدیث سے مطابق نہیں ہے تو وہ اس کو رد کردیں۔ ۱۰۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار وجے ٹائمس (Vijay Times) کی نمائندہ دیکشا چوپڑانے ۲ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق زیادہ تر انڈیا کے مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ انڈیا کے مسلمان مختلف قسم کے مسائل سے دوچار ہیں مگر ان مسائل کے بارے میں یہ سمجھنا غلط ہے کہ ان کا سبب مذہب اسلام ہے۔ ان مسائل کے اسباب کچھ اور ہیں۔ مثلاً عمرانہ (۴ جون ۲۰۰۵) کے واقعے کا سبب جہالت ہے۔ جس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ عمرانہ کا شوہر نور محمد ایک رکشہ چلانے والا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے درمیان اس قسم کے مسائل نہیں ہیں۔ اسی طرح کٹر پن بھی کم پڑھے لکھے مسلمانوں کا ظاہر ہ ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں میں یہ چیز موجود نہیں ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کے مسائل کا حل کامن سول کوڈ نہیں۔ کامن سول کوڈ جیسا ایک ایکٹ (سول میرج ایکٹ) آج بھی موجود ہے مگر ہندوستانی سماج پر اس کا اثر ایک فی صد بھی نہیں۔ ان مسائل کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمانوں میں فرق کرتے ہوئے ان کو دیکھا جائے۔
۱۱۔ روزنامہ دَینک جاگرن (نئی دہلی) کے نمائندہ ارشد فریدی نے ۲ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق مظفر نگر کے واقعہ (۴ جون) سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس معاملے میں علماء اور جماعتوں کا فتویٰ غلط ہے۔ اسلام کے مطابق، سزا بر فعل کرنے والے کو ملے گی نہ کہ بالجبر برے فعل کا شکار ہونے والے کو۔ میرے نزدیک اس معاملے میں عمرانہ بے قصور ہے۔ اس معاملے کی تفصیلی روداد انگریزی میگزین آؤٹ لک (Out Look) کے شمارہ ۱۸ جولائی ۲۰۰۵ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues