ڈائیلاگ اسلام میں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۱
شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا۔ پیغمبر کی اس سنت سے ڈائیلاگ کا یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے نقطۂ نظر کو دلیل کے ساتھ پیش کریں۔ لیکن اسی کے ساتھ دونوں اس بات کے لیے تیار ہیں کہ ڈائیلاگ ہمیشہ لینے اور دینے (give and take) کے اصول کو اختیار کر کے کامیاب ہوتا ہے نہ کہ صرف لینے کے اصول پر اصرار کرنے سے۔ عملی معاملات میں اسلام آخری حد تک لچک کے اصول کو پسند کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صرف ڈائیلاگ کے اصول نہیں بتائے گئے ہیں بلکہ ڈائیلاگ کے اصول کا عملی تجربہ بھی بار بار کیا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
پیغمبر اسلام نے اپنے مشن کے مکی دور میں بار بار ڈائیلاگ کے اصول پر عمل کیا۔ مثلاً ایک بار قریش نے اپنے سردار عقبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بنا کر پیغمبر اسلام کے پاس بھیجا۔ تا کہ باہمی اختلاف کے موضوع پر بات چیت کر کے صلح کا ماحول بنایا جائے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عقبہ نے نہایت غور کے ساتھ آپ کی باتیں سنیں اور قریش کے پاس جا کر انھیں اس سے آگاہ کیا۔ اسی طرح ایک بار آپ کے چچا ابو طالب کی دعوت پر آپ اور قریش کے نمائندے اکھٹا ہوئے اور اختلافی موضوعات پر پر امن انداز میں بات چیت ہوئی۔
اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ایک گفت و شنید ہوئی۔ اس کا سلسلہ تقریباً دو ہفتے تک جاری رہا۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان وہ معاہدۂ امن طے پایا جس کو معاہدۂ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ بلاشبہ پر امن ڈائیلاگ کی ایک کامیاب مثال ہے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کی موجودگی میں تین مذہب اسلام، مسیحیت اور یہودیت کے نمائندوں کے درمیان ڈائیلاگ ہوا۔ یہ ٹرائیلاگ (trilogue) مدینہ کی مسجد نبوی میں ہوا۔ عرب مصنفین نے اس کو مؤتمر الادیان الثلاثہ کا نام دیا ہے۔ یعنی تین مذہبوں کے درمیان ٹرائیلاگ۔ غالباً یہ تاریخ کا پہلا ٹرائیلاگ تھا جو مقدس عبادت خانے کے اندر ہوا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues