Al-Risala · October 2006 · page 20

ڈائیلاگ اسلام میں

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۰

۳۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کا ترجمہ یہ ہے :

’’ کہو، اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان مسلم ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں‘‘۔ (آل عمران : ۶۴)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دو فریق کے درمیان بات چیت ہو تو اُس وقت موضوع گفتگو کا انتخاب کس طرح کرنا چاہیے۔ وہ یہ کہ گفتگو کا آغاز کنٹرول ورشل پہلو کو لے کر نہ کیا جائے بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان کامن گراؤنڈ (کلمۂ سوا ء) کی تلاش کی جائے، اور اس کامن گراؤنڈ سے گفتگو کا آغاز کیا جائے۔ یعنی گفتگو کا طریقہ اختلاف سے اتفاق کی طرف نہ ہو بلکہ اتفاق سے اختلاف کی طرف ہو۔

۴۔ اس سلسلے میں ایک اور قابل حوالہ آیت کا ترجمہ یہ ہے :

’’اور خدا کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کو تم بُرا بھلا نہ کہو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر، جہالت کی بناپر ، خدا کو بُرا بھلا کہنے لگیں گے‘‘۔ (الانعام : ۱۰۹)

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دو فریقوں کے درمیان ایک اختلافی موضوع پر ڈائیلاگ ہو تو ضروری ہے کہ ڈائیلاگ کے باہر موافق ڈائیلاگ فضا کو باقی رکھا جائے۔ اگر ایسا ہو کہ دونوں فریقوں کا میڈیا یا ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی باتیں پھیلا رہا ہو۔ دونوں طرف کے لوگ ایسی باتوں کا چرچا کرنے میں مصروف ہوں جس سے ایک دوسرے کے خلاف معاندانہ جذبات پیدا ہوتے ہیں تو ایسی غیر موافق فضا میں مفید ڈائیلاگ نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈائیلاگ کے نتیجہ خیز ہونے کا تعلق، صرف کمرۂ ڈائیلاگ کی بات چیت پر منحصر نہیں ہوتا، بلکہ اس پر منحصر ہوتا ہے کہ کمرۂ ڈائیلاگ کے باہر جو فضا بنائی گئی ہے وہ ڈائیلاگ کے حق میں ہے یا اس کے خلاف ہے۔ ڈائیلاگ کا ایک اور اصول وہ ہے جو سنتِ رسول سے ثابت ہوتا ہے، یہ اصول حد یہ کے معاہدے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان لمبی بات چیت کے بعد طے پایا تھا۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، یہ معاہدہ اس طرح ممکن ہوا کہ پیغمبر اسلام نے قریش کی کئی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues

Printed page