توہّماتی دَور سے سائنسی دَور تک
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۳
توہّماتی دَور سے سائنسی دَور تک
حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک جلیل القدر پیغمبر تھے۔ وہ عراق میں پیدا ہوئے۔ پھر مصر اور فلسطین سے سفر کرتے ہوئے وہ عرب کے اس مقام پر پہنچے جہاں اب مکہ آباد ہے۔ اُس وقت یہ مقام ایک غیر آباد مقام تھا۔ رتیلے میدان اور خشک پہاڑوں کے سوا یہاں اور کوئی چیز موجود نہ تھی۔ یہاں انھوں نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسا دیا۔
یہ چار ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ یہ کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ دراصل ایک نیا دور تاریخ شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔ یہ منصوبہ اب مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اصل یہ ہے کہ چار ہزار سال پہلے کی دنیا میں ہر طرف شرک کا غلبہ تھا۔ شرک در اصل فطرت پرستی کا نام ہے۔ انسان، سورج، چاند، ستارے، دریا، پہاڑ اور حیوانات، ہر چیز کو پوجتا تھا۔ وہ فطرت (nature) کو پرستش کی چیز بنائے ہوئے تھا۔
یہ صورتِ حال ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ خالق نے فطرت (nature) کے اندر ہر قسم کی طاقتیں چھپا دی تھیں ۔ ضرورت تھی کہ انسان ان کو دریافت کر کے انھیں استعمال کرے۔ لیکن انسان نے فطرت کو پرستش کی چیز بنا لیا۔ حتیٰ کہ فطرت کی پرستش (nature worship) یا شرک، انسانی کلچر کا غالب حصہ بن گیا۔ پرستشِ فطرت کے اِس مزاج نے انسان کے اندر سے تسخیرِ فطرت کا ذہن ختم کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فطرت کی طاقتوں کو دریافت کر کے، اس کو انسانی خدمت کے لیے استعمال کرنے کا ذہن عملاً ختم ہو گیا۔ اس ماحول میں عابدِ فطرت پیدا ہونے لگے نہ کہ وہ لوگ جو کھلے ذہن کے ساتھ تحقیق کر کے فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کر سکیں۔
ان حالات میں ضرورت تھی کہ ایک ایسی نسل پیدا کی جائے جو فطرت پرستی کے ذہن یا مشرکانہ تہذیب کے اثر سے خالی ہو۔ یہ کام کسی متمدن شہر میں نہیں ہو سکتا تھا۔ کیوں کہ اس زمانے میں ہر متمدن شہر، شرک (فطرت پرستی) کا مرکز بن چکا تھا۔ اس بنا پر حضرت ابراہیم نے مکہ کے غیر آباد
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues