توہّماتی دَور سے سائنسی دَور تک
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴
علاقے کو منتخب کیا تاکہ یہاں کے کھلے ماحول میں ایک نئی نسل پیدا کی جائے جو مشرک کا نہ تہذیب کے اثرات سے خالی ہو، اور اپنے بے آمیز ذہن کی بنا پر نئی تاریخ بنانے کا کام کر سکے۔ پیغمبر اسلام اسی علاقے میں ۵۷۰ عیسوی میں پیدا ہوئے۔ ۶۱۰ عیسوی میں آپ کو نبوت ملی۔ یہاں کی زندہ نسل جس کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے، اس میں کام کر کے آپ نے ایک طاقت ور ٹیم تیار کی۔ یہ ٹیم جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے اس نے غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے قدیم دور کے فطرت پرستانہ نظام (مشرکانہ نظام) کو توڑا، اور دوسرے دورِ تاریخ کا آغاز کیا۔ یعنی وہ دور جب کہ فطرت (nature) پرستش کے بجائے تسخیر کا موضوع بنے۔ یہ عمل ہزار سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ موجودہ دور پیدا ہوا، جب کہ فطرت کا آزادانہ مطالعہ کر کے فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ دور آ گیا جس کو سائنسی دور یا جدید صنعتی دور کہا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی میں اب دنیا اپنی تاریخ کے تیسرے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس دور میں بیک وقت دو چیزیں پوری طرح ظاہر ہو چکی ہیں۔ ایک ہے، جدید مشینی سامانوں کے ذریعے نئے تمدنی اسباب کا پیدا ہونا۔ ان نئے تمدنی اسباب میں سب سے زیادہ اہم چیز جدید مواصلات (ماڈرن کمیونیکیشن ) ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر اور پیغام رسانی اتنی ہی آسان بن چکا ہے جتنا کہ پہلے ایک محلے کے اندر ممکن ہوتا تھا۔
جدید انقلاب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ خدائی سچائی آخری سچائی حد تک مبرہن ہو چکی ہے۔ خدائی سچائی کے حق میں پہلے روایتی دلائل ہوا کرتے تھے۔ اب خدائی سچائی کو ثابت شدہ بنانے کے لیے سائنسی دلائل ظاہر ہو چکے ہیں۔ خدائی سچائی اب صرف ایک عقیدہ نہیں رہی بلکہ وہ سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکی ہے۔
یہ تیسرا دور لوگوں کو ایک نئے عمل کی دعوت دے رہا ہے۔ پہلے دور کا مطلوب کام نئی نسل بنانا تھا، وہ بنواسماعیل کے ذریعے انجام پایا۔ دوسرے دور کا مطلوب کام ایک انقلاب لانا تھا، جس میں فطرت
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues