توہّماتی دَور سے سائنسی دَور تک
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۵
(نیچر) پرستش کے بجائے تسخیر کا موضوع بن جائے۔ یہ کام اصحابِ رسول کے ذریعہ واقعہ بنے۔ تیسرے دور کا مطلوب کام یہ ہے کہ اب اکیسویں صدی میں عزم و یقین سے بھر پور ایک گروہ اٹھے۔ وہ جدید وسائل اور جدید دلائل کو استعمال کر کے خدائی سچائی کو عالمی سطح پر آشکارا کر دے، تاکہ خدا کے بندے خدا کی رحمت کے سائے میں جینے کی سعادت حاصل کر سکیں۔
شاید انسانی تاریخ کا یہی وہ آخری دَور ہے جس میں دعوتِ نبوت کو انجام دینے والوں کے لیے حدیث میں اخوانِ رسول کا لفظ آیا ہے۔ اصحابِ رسول نے روایتی دَور میں اظہارِ دین کا کام انجام دیا تھا، اب اخوانِ رسول سائنسی دَور میں اظہارِ دین کے اسی کام کو انجام دیں گے۔ حدیث میں اخوانِ رسول کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔
روایتی دَور میں اظہارِ دین، اور سائنسی دَور میں اظہارِ دین کے درمیان کیا فرق ہے، اس کو راقم الحروف نے اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم روایتی دور میں انسان کا جو فریم ورک تھا اس کے مطابق، گرہن کے بارے میں قابل فہم طور پر صرف یہ کہا جا سکتا تھا کہ وہ خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کی روشنی میں اس واقعے کو اور بھی زیادہ ایمان افروز انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ زمین اور سورج اور چاند تین مختلف سائز کے متحرک اجرام ہیں۔ مگر وسیع خلا میں ان کو ایک نا قابلِ قیاس حساب کے ذریعے ایک سیدھ میں لایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں سورج گرہن اور چاند گرہن واقع ہوتا ہے:
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues