نئی منصوبہ بندی کی ضرورت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷
مہاتما گاندھی کی امن پالیسی کے نتیجے میں جو حالات پیدا ہوئے اس کا ایک اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے کہ اُس زمانے کے ایک انگریز کلکٹر نے اپنے برٹش سیکریٹریٹ کو یہ میسج بھیجا کہ ـــ براہِ کرم، بذریعہ ٹیلی گرام یہ بتائیے کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کس طرح ہلاک کیا جائے: Kindly, wire instructions how to kill a tiger non-violently. جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے، متشددانہ طریق کار کے مقابلے میں پرُ امن طریق کار اتنا زیادہ کامیاب رہا کہ صرف ۲۵ سال کے بعد ۱۹۴۷ میں انڈیا آزاد ہو گیا۔ ساٹھ سال کی پُر تشدد جدوجہد، آزادی کے حصول میں ناکام ثابت ہوئی۔ مگر بیس سال کی پرُ امن جدوجہد، آزادی کے حصول میں پوری طرح کامیاب رہی۔
برِّ صغیر ہند میں پیش آنے والے یہ دونوں واقعات، مسلم نقطۂ نظر سے بے حد اہم تھے۔ یہ واقعات بتا رہے تھے کہ نو آبادیاتی دور صرف سیاسی استیلاء کے ہم معنی نہیں ہے، اسی کے ساتھ وہ نئے عظیم تر امکانات بھی لے کر آیا ہے۔ ان امکانات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اب نئے وسائل نے قدیم پر تشدد طریق کار کے مقابلے میں پرُ امن طریق کار کو زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔ یہاں تک کہ اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ جو جنگ ہتھیاروں کی مدد سے جیتی نہیں جاسکتی تھی، اس کو امن کے ذرائع کی مدد سے شان دار طور پر جیت لیا جائے۔
یہ واقعہ ساری دنیا کے مسلم رہنماؤں کے لیے ایک چشم کشا واقعے کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر میرے علم کے مطابق ، ساری مسلم دنیا میں کوئی ایک بھی قابلِ ذکر مسلم رہنما نہیں تھا جو اس واقعے سے سبق لے اور اس کی روشنی میں اپنی ملّی جدوجہد کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ ہر جگہ کی مسلم تحریکیں بدستور اُسی متشددانہ طریق کار پر چلتی رہیں جس پر وہ پہلے چلتی تھیں ۔ اس تاریخ پر اب ڈیڑھ سو سال گزر چکے ہیں، لیکن کسی بھی علاقے کے مسلمانوں میں کوئی حقیقی مثبت تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ مزید اندوہ ناک بات یہ ہے کہ مسلمان اپنے ذاتی معاملات کو تو مصالحت اور ایڈ جسٹ مینٹ کے اصول پر چلاتے ہیں۔ لیکن جہاں تک قومی پالیسی کی بات ہے، ہر جگہ وہ تشدد اور انتہا پسندی کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues